1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

یورپی یونین میں میرکل کا پلان اے اور بی کیا ہے؟

یورپی سربراہ اجلاس سے ایک روز قبل جرمن وفاقی چانسلر انگیلا میرکل نے جرمن پارلیمان میں اپنے خطاب کے دوران خبردار کیا ہے کہ مہاجرین کے بحران سے نبرد آزما ہونے کی یورپی پالیسی غلط سمت اختیار کر سکتی ہے۔

جرمن چانسلر انگیلا میرکل نے مہاجرین کے بحران کے تناظر میں یورپی سطح پر مشترکہ اقدامات کی ضرورت پر زوردیا ہے۔ میرکل نے جرمن پارلیمان میں اپنے ایک پالیسی بیان میں کہا کہ مشترکہ ہدف مہاجرین کی تعداد میں مؤثر طریقے سے کمی کرنا ہے۔

انہوں نے مہاجرین کی صورت حال کو ناقابل برداشت قرار دیتے ہوئے انہیں ہر طرح سے مدد فراہم کرنے پر بھی زور دیا۔ میرکل کا یہ بیان اس دو روزہ یورپی سربراہ کانفرانس سے ایک روز پہلے سامنے آیا ہے، جو کل سے برسلز میں شروع ہو رہی ہے۔

یورپی بیت الخلاء، کئی مہاجرین کے لیے معمہ

میرکل کی مہاجرین دوست پالیسی دور اندیش ہے، ینکر

خبر رساں ادارے روئٹرز کی رپورٹوں کے مطابق میرکل کا کہنا تھا کہ یورپی یونین کو پناہ گزینوں کا موجودہ بحران حل کرنے کے لیے تمام ممکن اقدامات کرنے ہوں گے تاکہ یونین کے رکن ممالک اس بحران سے متاثر نہ ہوں۔

میرکل کا یہ بھی کہنا تھا کہ یورپ آنے والے تارکین وطن کی تعداد کم کرنے کے لیے ان وجوہات کا خاتمہ بھی ضروری ہے جن کی وجہ سے لوگ بھاگنے پر مجبور ہو رہے ہیں۔ جرمن چانسلر کے بقول یورپی یونین کے سربراہ اجلاس کے دوران اس معاملے پر بات چیت کی جائے گی۔

ترکی اور یورپی یونین کے مابین تارکین وطن کو روکنے کے معاہدے کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ سمٹ کے دوران اس معاہدے کے بارے میں بھی فیصلہ کیا جائے گا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ برسلز میں اجلاس کے دوران مہاجرین کی رکن ممالک میں تقسیم کے منصوبے پر بات چیت نہیں کی جائے گی۔ اس حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ مہاجرین کی تقسیم کے پہلے سے طے شدہ منصوبے پر ابھی تک عمل درآمد نہیں ہو سکا، اسی وجہ سے اس موضوع پر مزید گفتگو کا فائدہ نہیں ہو گا۔

یورپی یونین کے کل سے شروع ہونے والے دو روزہ سربراہ اجلاس کے دوران تارکین وطن کی یورپ آمد روکنے کے لیے اب تک کیے گئے اقدامات کا بھی جائزہ لیا جائے گا۔

ترکی کی جانب سے تارکین وطن کو روکنے میں ناکامی کی صورت میں پلان بی بھی زیر بحث لایا جائے گا۔ متبادل منصوبے کے تحت یونان کی مقدونیا اور بلغاریہ سے متصل سرحدیں بند کر دی جائیں گی۔ اس منصوبے کو آسٹریا کی حمایت بھی حاصل ہے تاہم یورپی یونین نے خبردار کیا ہے کہ اس صورت میں یونان عملی طور پر شینگن زون سے خارج ہو جائے گا۔

DW.COM