1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

یورپی یونین میں ’مہاجر کوٹہ سسٹم منصوبہ‘ مشکلات کا شکار

یورپ میں پناہ گزینوں کی منصفانہ تقسیم ایک بڑا مسئلہ ہے۔ اتوار دو اکتوبر کو ہنگری میں مجوزہ ایک ریفرنڈم میں اس بات کا قوی امکان ہے کہ عوام یورپی یونین کے مہاجرین کو قبول کرنے کے کوٹے کے منصوبے کی مخالفت کریں گے۔

Minderjährige Flüchtlinge vermisst in Europa (picture-alliance/dpa/H.P.Oczeret)

ہنگری کی حکومت نے مہاجرین کی منتقلی کے نکتے پر اعتراضات اٹھائے تھے

یورپی یونین  نے سن دو ہزار پندرہ میں اٹلی اور یونان سے ایک لاکھ ساٹھ ہزار پناہ گزینوں کو یورپی یونین کے دیگر ممالک میں منتقل کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ اس منصوبے کے تحت کہا گیا تھا کہ سیاسی پناہ کی درخواست منظور ہونے کے سب سے زیادہ امکانات رکھنے والے تارکین وطن کو کسی بھی یورپی ملک میں منتقلی کے بعد وہیں رہ کر فیصلے کا انتظار کرنا ہو گا اور کامیابی کی صورت میں اُنہیں اُسی ملک میں مستقل رہائش اختیار کرنے کی بھی اجازت مل جائے گی۔

اس نظام کے تحت ہنگری کے حصے میں ایک ہزار دو سو چورانوے جبکہ سلوواکیہ کے حصے میں نو سو دو مہاجرین آنا تھے۔ تاہم ان دونوں ممالک نے یورپی یونین کے مہاجرین کی منصفانہ تقسیم کی ’لازمی کوٹہ اسکیم‘ کو مسترد کر دیا ہے اور اب اس معاملے کو یورپی کورٹ آف جسٹس میں بھی لے جا رہے ہیں۔

 یورپی یونین کے شماریات کے آفس یورو اسٹیٹ کے مطابق یورپی یونین میں گزشتہ پورے سال کے دوران پہلی مرتبہ دائر کی جانے والی سیاسی پناہ کی درخواستوں کی تعداد ایک اعشاریہ دو پانچ ملین تھی جبکہ اکیس ستمبر سے پہلے بارہ ماہ کے دوران یہ تعداد ایک اعشاریہ چار چار ملین رہی۔

سن دو ہزار پندرہ میں یورپی یونین کے ممالک میں سیاسی پناہ کی پہلی مرتبہ دائر ہونے والی سب سے زیادہ یعنی چار لاکھ اکتالیس ہزار آٹھ سو درخواستیں جرمنی نے وصول کیں۔ اس کے بعد ہنگری کا نمبر ہے، جہاں ایک لاکھ چوہتر ہزار چار سو پینتیس جبکہ تیسرے نمبر پر موجود سویڈن میں ایک لاکھ چھپن ہزار ایک سو دس درخوستیں دائر کی گئیں۔ پناہ گزینوں کی منزل بننے والے ممالک کی اس فہرست میں اگلے دو ممالک آسٹریا اور اٹلی ہیں۔

Deutschland Flüchtlinge kommen an der ZAA in Berlin an (Getty Images/S. Gallup)

سن دو ہزار پندرہ میں یورپی یونین کے ممالک میں سیاسی پناہ کی پہلی مرتبہ دائر ہونے والی سب سے زیادہ یعنی چار لاکھ اکتالیس ہزار آٹھ سو درخواستیں جرمنی نے وصول کیں

سن دو ہزار پندرہ میں آسٹریا میں سیاسی پناہ کی دائر شدہ درخوستوں کی تعداد پچاسی ہزار پانچ سو پانچ تھی جبکہ اٹلی میں یہ تعداد تراسی ہزار دو سو پینتالیس تھی۔ اس فہرست میں سب سے آخر میں کروشیا، ایستونیا اور سلووینیا ہیں، جہاں پہلی بار دائر ہونے والی سیاسی پناہ کی درخواستوں کی تعداد بالترتیب ایک سو چالیس، دو سو پچیس اور دو سو ساٹھ رہی۔

ہنگری کی حکومت نے مہاجرین کی منتقلی کے نکتے پر اعتراضات اٹھائے تھے۔ ہنگری کی جانب سے اس منصوبے کی مخالفت بالآخر یہاں ایک ریفرنڈم کے انعقاد کے فیصلے پر منتج ہوئی، جس کے لیے ہنگری کے عوام اتوار دو اکتوبر کو ووٹ ڈالنے والے ہیں۔ تاہم یورپی یونین کے معاہدے کے خلاف ریفرنڈم منعقد کروانے کے فیصلے نے ہنگری کے وزیرِاعظم وکٹر اوربان کی مقبولیت اور ہنگری کے عوام میں مہاجر مخالف جذبات میں اضافہ کیا ہے۔

 اوربان کا کہنا ہے کہ ریفرنڈم میں حکومتی موقف کی حمایت کے بعد برسلز کے لیے مشکل ہو جائے گا کہ وہ ہنگری کو طے شُدہ کوٹے کے مطابق تارکین وطن کو قبول کرنے پر مجبور کر سکے۔ خیال رہے کہ ہنگری کی حکومت کا کہنا ہے کہ بڑے پیمانے پر مہاجرین کی آمد سے ملکی ثقافت تباہ ہو جائے گی۔ دوسری جانب یورپی یونین کی کوشش ہے کہ مہاجرین کے حالیہ بحران کے نتیجے میں شورش زدہ ملکوں اور خطّوں سے یورپ پہنچنے والے مہاجرین کو تمام یورپی ملکوں میں برابر برابر تقسیم کر دیا جائے۔

 اس کے لیے یورپی حکام نے ایک فارمولا بھی تیار کر لیا ہے تاکہ آبادی اور رقبے کے لحاظ سے کسی بھی یورپی ملک پر کوئی اضافی بوجھ نہ پڑے۔ تاہم اوربان کا کہنا ہے کہ مہاجرین کو کوٹہ سسٹم کے تحت یورپی ممالک میں پناہ دینے کا فیصلہ دراصل ان ممالک کی قومی خودمختاری کے خلاف ہے۔

DW.COM