1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

یورپی یونین میں ممکنہ شمولیت: ترکی برسلز سے ناراض

ترک وزیر اعظم ایردوآن نےکہا ہےکہ یورپی یونین ترکی کی اس بلاک میں شمولیت کی راہ میں متعلقہ قوانین میں بار بار تبدیلیاں کرتے ہوئے اس لئے رکاوٹیں ڈال رہی ہے کہ ترکی ایک مسلمان ملک ہے۔

default

ترک سربراہ حکومت نے خبر ایجنسی روئٹرز کے ساتھ منگل کی رات ایک انٹرویو میں کہا کہ ترک عوام اس طرح یورپ کے دروازے پر انتظار کرتے کرتے اب تھک گئے ہیں۔رجب طیب ایردوآن نے روئٹرز کو اپنا یہ انٹرویو اسی روز دیا، جس دن برسلز میں یورپی یونین کے کمیشن نے ترکی کے بارے میں یہ موقف اختیار کیا کہ انقرہ حکومت ملک میں انسانی حقوق کے احترام اور ذرائع ابلاغ کی آزادی جیسے شعبوں سمیت کئی اہم معاملات میں بنیادی اہمیت کی اصلاحات کی بحالی میں ناکام رہی ہے۔

اپنے اس انٹرویو میں وزیر اعظم ایردوآن نے اس امر کی طرف اشارہ کیا کہ یونین میں ترکی کی ممکنہ شمولیت سے قبل کئے جانے والے مذاکرات کی سست رفتاری انقرہ کے لئے ناامیدی کا باعث بنی ہے۔ انہوں نے کہا:’’یورپی یونین کے دروازے پر کھڑے کھڑے ہمیں گزشتہ پچاس برسوں سے بس انتظار ہی کروایا جا رہا ہے۔‘‘

Belgien EU Gipfel Flaggen in Brüssel

رجب طیب ایردوآن کے مطابق ترکی یورپی یونین میں اپنی ممکنہ شمولیت کے سلسلے میں مسلسل انتظار ہی کر رہا ہے اور اس حوالے سے مذاکرات ایک ایسا عمل ہیں، جو پورا ہی نہیں ہو پا رہا۔

ترک سربراہ حکومت نے خبر ایجنسی روئٹرز کو بتایا کہ ان حالات میں ترکی میں رائے عامہ کی سطح پر پائی جانے والی ناراضگی کو واضح طور پر محسوس کیا جا سکتا ہے۔ ترکی کا الزام ہے کہ یورپی یونین میں شمولیت سے پہلے کے عمل میں انقرہ کے ساتھ غیر منصفانہ طور پر ایسا امتیازی برتاؤ کیا جا رہا ہے، جو اس وقت یونین کی رکن کسی بھی ریاست کے ساتھ اس کی اس بلاک میں شمولیت سے قبل کبھی دیکھنے میں نہیں آیا تھا۔

اس بارے میں وزیر اعظم ایردوآن نے کہا: ’’جب سے یہ کھیل شروع ہوا ہے، اس کھیل کے نت نئے ضابطے متعارف کرائے جاتے رہے ہیں۔‘‘ترکی نے، جس کے ریاستی علاقے کا ایک حصہ یورپ میں ہے اور دوسرا ایشیا میں، برسلز کے ساتھ یورپی یونین میں اپنی ممکنہ شمولیت سے متعلق باقاعدہ مذاکرات کا آغاز سن 2005ء میں کیا تھا۔

لیکن تب سے اب تک یونین کی رکن ریاست قبرص کے ساتھ ترکی کے دوطرفہ تنازعے اور چند یورپی حکومتوں کی طرف سے وسیع تر رقبے والے اور قدرے غریب ملک ترکی کو اس بلاک میں شامل کرنے کے سلسلے میں ہچکچاہٹ کے سبب یہ بات چیت اتنی سست رفتار رہی ہے کہ اسے تقریباﹰ جمود کا نام دیا جا سکتا ہے۔

یورپی یونین میں اپنی ممکنہ شمولیت سے قبل ترکی کو برسلز کے ساتھ جن 35 مختلف شعبوں میں مذاکراتی عمل کو ہر لحاظ سے مکمل کرنا ہے، ان میں سے اب تک صرف ایک ہی شعبے میں مکالمت مکمل ہو سکی ہے۔ ان بڑے متنوع شعبوں کو یونین کی دفتری زبان میں ’’ڈائیلاگ چیپٹرز‘‘ کہا جاتا ہے۔ اس وقت انقرہ اور برسلز کے مابین 13 چیپٹرز میں مکالمت جاری ہے جبکہ 21 شعبے ایسے ہیں، جن میں بات چیت کا عمل ابھی مستقبل میں کہیں جا کر شروع ہو گا۔

رپورٹ: عصمت جبیں

ادارت : امجد علی

DW.COM

ویب لنکس