1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

یورپی یونین میں مالی اصلاحات کا عمل

یورپی یونین کے وزرائے خزانہ اس بلاک میں مالی معاملات اور اقتصادی بحران سے نمٹنے کے سلسلے میں بیلجیئم کے دارالحکومت برسلز میں جاری ایک میٹنگ میں تازہ سوچ بچار کے عمل سے گزر رہے ہیں۔

default

یورپی یونین کے وزرائے خزانہ کی سابقہ میٹنگ: فائل فوٹو

یورپی ملک یونان کے مالی بحران کے بعد یونین کو خدشہ ہے کہ مستقبل قریب میں ایسی صورت حال سپین، پرتگال، اٹلی اور آئر لینڈ میں بھی پیدا ہوسکتی ہے۔ یونین کے رکن ملک جلد از جلد ایسے بحرانوں سے نبرد آزما ہونے کے لئے نئے قواعد و ضوابط کا نفاذ چاہتے ہیں۔ یورپی یونین کی خصوصی ٹاسک فورس کے اجلاس میں قرضوں کی واپسی پر خاص طور پر توجہ مرکوز کی گئی۔ اس اجلاس کی صدارت یونین کی کونسل کے صدر ہیرمان فان رومپائے کر رہے تھے۔ اس مناسبت سے خراب کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے رکن ملکوں کے خلاف تادیبی کارروائی کو بھی وقت کی ضرورت خیال کیا جا رہا ہے۔

Treffen der EU-Finanzminister in Luxemburg 8. Juni 2010

یورپی یونین کے مالیاتی امور کے کمیشنر اولی رہن اور یونانی ویزر خزانہ: فائل فوٹو

یورپی یونین کے رکن ملکوں کو بجٹ خسارے کا بھی سامنا ہے۔ یونین نے یہ قانون متعارف کروا رکھا ہے کہ کسی بھی رکن ملک کا بجٹ خسارہ اس کی مجموعی قومی پیداوار کے تین فیصد سے زائد کسی بھی طور پر نہیں ہو نا چاہیے۔ یہ امر دلچسپ ہے کہ 27 میں سے 25 رکن ملک اس ضابطے کو خاطر میں نہیں لا رہے۔ صرف سویڈن اور ایسٹونیا دو ایسے ملک ہیں جن کا سالانہ بجٹ خسارہ اس زیادہ سے زیادہ مقررہ شرح سے کم ہے۔

یونین کے صدر نے میٹنگ کے بعد بتایا کہ مستقبل میں زیادہ سے زیادہ بجٹ خسارے سے متعلق ضابطوں کا احترام نہ کرنے والے ملکوں کو کئی طرح کی سخت پابندیوں کا سامنا ہو سکتا ہے۔ رومپائے کے مطابق لازمی ہے کہ یہ پابندیاں مالی اور غیر مالی دونوں طرح کی ہوں۔ مگر یونین کے رکن ملک ان پابندیوں کے حوالے سے کسی ایک نکتے پر متفق نہیں ہیں۔ پابندیوں کے حوالے سے ابھی تک بحث کا دائرہ وسیع ہے اور اس میں فوکس کا فقدان پایا جا رہا ہے۔

برطانوی وزیر خزانہ جارج اوسبورن نے پہلے ہی یونین کو مطلع کردیا ہےکہ برطانیہ چونکہ یورو زون کا رکن نہیں، لہٰذا اس پر کسی بھی پابندی کا اطلاق نہیں ہو سکتا۔ اس مناسبت سے قائم ٹاسک فورس کا اگلا اجلاس اب ستمبر میں متوقع ہے۔ اس اجلاس میں مالی بحران سے متاثر ہونے والی ریاستوں کے لئے ’ریسکیو پلان‘ کو قابل عمل بنانے پر مزید اظہار خیال کیا جائے گا۔ یہ پلان رواں اجلاس میں بھی زیر بحث رہا۔ یورو زون کے ملکوں کی ایک خصوصی میٹنگ بھی ستمبر کے پہلے ہفتے میں طے ہے۔ اس میٹنگ میں بھی اس

Jean-Claude Juncker unter EU- Sternen

لکسمبرگ کے وزیر اعظم اور یورو گروپ کے سربراہ ژاں کلود یُنکر

’ریسکیو پلان‘ کو ایجنڈے پر رکھا گیا ہے۔ ایسے امکانات پیدا ہو گئے ہیں کہ یورپی یونین کے رکن ملکوں میں بینکوں اور مالیاتی اداروں کے لئے سخت قواعد و ضوابط پر مبنی مالی اصلاحات کے مجوزہ پلان کی منظوری اکتوبر میں ہونے والی سمٹ میں دی جا سکتی ہے۔

مالی اصلاحات کے حوالے سے آزمائشی مرحلے کے نتائج اس ماہ کی 23 تاریخ کو جاری کئے جائیں گے۔ یونین کے 90 مختلف بینکوں کے اقتصادی ’سٹریس ٹیسٹ‘ کا سلسلہ مکمل کر لیا گیا ہے۔ یورپی یونین کے وزرائے خزانہ کے اجلاس میں یونان میں بچتی کٹوتیوں کے حکومتی پلان کو قابل تعریف خیال کیا گیا۔ یونان کے لئے مالی امداد کی دوسری بین الاقوامی قسط ستمبر میں جاری کی جائے گی۔ اس اجلاس میں سپین کی مالیاتی صورت حال کو بھی بالخصوص گفتگو کا موضوع بنایا گیا۔

یورپی یونین کے وزرائے خزانہ کا اجلاس آج منگل کو بھی جاری رہے گا۔ منگل کو بینکوں کے لئے ’اکنامک سٹریس ٹیسٹ‘ کے بارے میں شرکاء مزید اظہار خیال کریں گے۔

رپورٹ: عابد حسین

ادارت: مقبول ملک

DW.COM