1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

یورپی یونین میں لیبیا کے خلاف پابندیوں پر اتفاق رائے

ستائیس رکنی یورپی یونین میں شامل ملکوں کے مابین لیبیا میں حکومت مخالف مظاہرین پر تشدد اور خونریز کارروائیوں کی وجہ سے شمالی افریقہ کے اس ملک کے خلاف پابندیاں عائد کرنے پر اتفاق ہو گیا ہے۔

default

جرمن دارالحکومت برلن میں وفاقی دفتر خارجہ نے بتایا کہ اس اتفاق رائے کے بعد اسی بارے میں رسمی فیصلہ اگلے ہفتے کے اوائل میں کیا جائے گا۔ یورپی پابندیوں کے اس پیکیج میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ لیبیا کو ہتھیاروں کی فراہمی پر پابندی عائد کر دی جائے گی اور ایسی تمام اشیاء کی ترسیل ممنوع ہو گی، جن کی یورپ سے لیبیا کو برآمد کی صورت میں قذافی حکومت ایسی مصنوعات کو عوام پر اپنے جبر اور تسلط کو طول دینے کے لیے استعمال کر سکے۔

China Libyen Evakuierung

بن غازی کی بندرگاہ کے راستے لیبیا سے چینی کارکنوں کا انخلاء

اس کے علاوہ یہ منصوبہ بھی بنایا گیا ہے کہ لیبیا کے رہنما معمر قذافی اور ان کے اہل خانہ کے یورپ میں جمع تمام اثاثے منجمد کر دیے جائیں گے اور قذافی خاندان کے ارکان کے یورپ میں داخلے پر بھی پابندی ہو گی۔

اسی دوران ترکی کا دورہ کرنے والے فرانسیسی صدر نکولا سارکوزی نے اپنے ترک ہم منصب عبداللہ گل کے ساتھ ایک ملاقات کے بعد آج جمعہ کو انقرہ میں صحافیوں کو بتایا کہ لیبیا میں معمر قذافی کو لازمی طور پر اقتدار سے علٰیحدہ ہونا ہوگا۔ لیکن ساتھ ہی صدر سارکوزی نے اس امکان کے خلاف بڑی محتاط تنبیہ بھی کی کہ اس شمالی افریقی ریاست میں کوئی بیرونی فوجی کارروائی بھی کی جا سکتی ہے۔

نکولا سارکوزی نے کہا، ’’جہاں تک فوجی مداخلت کا تعلق ہے، تو فرانس ایسی کسی بھی تجویز پر انتہائی احتیاط اور ہچکچاہٹ کے ساتھ غور و فکر کرے گا۔‘‘

رپورٹ: مقبول ملک

ادارت: امجد علی

DW.COM

ویب لنکس