1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

یورپی یونین میں صرف تیرہ یورو میں داخلہ، یہ کیسے ممکن ہے؟

یورپی یونین میں سرحدوں پر نگرانی کو توسیع دی جا رہی ہے۔ اب یونین میں داخلے کے خواہش مندوں کو یا تو ویزا لینا پڑے گا یا پھر ایک نئے نظام کے تحت پہلے سے اندراج کرانا ہو گا۔ اس کا مقصد سلامتی کے انتظامات کو سخت کرنا ہے۔

آسٹریلیا میں طویل عرصے سے اُن ممالک کے شہریوں کے لیے، جنہیں ویزا کی ضرورت نہیں، داخلے کا ایک الیکٹرانک نظام رائج ہے جبکہ 2007ء سے امریکا بھی اس طریقے پر عمل کر رہا ہے۔ اب یورپی یونین بھی داخلے کا الیکٹرانک نظام متعارف کرانے جا رہی ہے اس کا مقصد یورپی یونین میں داخل ہونے والوں اور باہر جانے والوں پر نظر رکھنا ہے۔ اسے ’Etias ‘ یعنی یورپیئن ٹریول انفارمیشن اینڈ اوتھرائزیشن سسٹم کا نام دیا گیا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ اس نظام میں اندارج کرانے والے کو تیرہ سے پچاس یورو تک ادا کرنے ہوں گے۔

برطانیہ کے یورپی یونین سے اخراج کے بعد ہزاروں برطانوی شہری جو سیاحت یا کاروبار کی غرض سے یورپی یونین کی رکن ریاستوں کا رخ کرتے ہیں انہیں بھی خود کو رجسٹر کراتے ہوئے فیس ادا کرنی ہو گی۔ اسی طرح یہ قانون ترکی اور یوکرائن کے شہریوں پر بھی لاگو ہو گا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس نئے نظام پر عمل درآمد کے لیے ابھی مزید چار سال چاہیں کیونکہ اسکینرز کی تنصیب اور ڈیٹا بینک کو ایک دوسرے سے منسلک کرنے کے لیے وقت چاہیے۔ اس سلسلے میں یورپی کمیشن کے نائب صدر فرانز ٹمرمنز نے کہا،’’اس مقصد کے لیے رکن ریاستوں کے مابین اور یورپی یونین کی سطح پر قریبی تعاون کی ضرورت ہے۔‘‘

Etias یورپی کمیشن کے ان وسیع اقدامات کا ایک بنیادی حصہ ہے، جو یورپی یونین کے باہر سے دہشت گردی کو روکنے اور مہاجرین کی آمد کو حدود میں رکھنے کے لیے اٹھائے جا رہے ہیں۔ یورپی کمیشن اس بات کا جائزہ لے رہا ہے کہ کس طرح ’Etias‘ کو پورپ کے تمام ہوائی اڈوں اور سرحدی گزرگاہوں پر نافذ کیا جا سکتا ہے۔ آج کل اس کی تکنیکی باریکیوں پر غور کیا جا رہا ہے۔ 2020ء سے یورپی یونین میں داخل اور باہر جانے والوں کی تمام کوائف جمع کرتے ہے محفوظ کر لیے جائیں گے۔ اسی طرح شینگن ممالک میں بھی اسی طرز کا شینگن انفارمیشن سسٹم یعنی ایس آئی ایس بھی نافذ کیا جائے گا۔