1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

یورپی یونین میں رہنے کے لیے کیمرون کی شرائط

برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون نے متنبہ کیا ہے کہ اگر برطانیہ کی خواہش کے مطابق اصلاحات نہ کی گئیں تو برطانیہ یورپی یونین کو چھوڑ بھی سکتا ہے۔ انہوں نے اس حوالے سے کچھ شرائط بھی سامنے رکھی ہیں۔

کیمرون کا کہنا ہے کہ وہ اس بارے میں پر امید ہیں کہ وہ ایسے معاہدے تک پہنچنے میں کامیاب ہو جائیں گے جو برطانیہ کے یورپی یونین سے اخراج کو روکنے کا سبب بنے گا۔ برطانیہ میں یورپی یونین میں رہنے یا اخراج کے سوال پر 2017ء میں ایک ریفرنڈم ہونا طے ہے۔ کیمرون کا کہنا ہے کہ اگر ان کے مطالبات پورے نہ کیے گئے تو پھر وہ اس 28 رکنی بلاک کو چھوڑنے کی مہم میں بھی شریک ہو سکتے ہیں۔

کیمرون نے لندن میں لوگوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا، ’’ریفرنڈم۔۔۔ ایک پود کی طرف سے ایک بار کیا جانے والا فیصلہ ہے۔ یہ ہمارے ملک کے لیے ایک بہت بڑا فیصلہ ہے۔۔۔ شاید ایسا سب سے بڑا فیصلہ جو ہم اپنی پوری زندگی میں کریں گے۔‘‘

منگل 10 نومبر کو کیمرون یہ خطاب یورپی یونین کے صدر ڈونلڈ ٹُسک کو خط لکھنے کے بعد کر رہے تھے جس میں انہوں نے یونین میں اصلاحات کے لیے اپنے مطالبات پیش کیے ہیں۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق اس خط میں کچھ نئی تفصیلات بھی شامل ہیں تاہم ان کا سب سے زیادہ زور یورپی یونین کے دیگر ممالک کے مقابلے میں تارکین وطن کے لیے برطانیہ میں رہائش کے پہلے چار سالوں میں ریاستی مراعات میں کمی لانے پر ہے۔ اس کا مقصد برطانیہ کی طرف ہونے والی ہجرت کی رفتار کم کرنا ہے۔

یورپیئن کمیشن کے ایک ترجمان نے اس خیال کو ’انتہائی دشوار‘ قرار دیا ہے جبکہ جرمن چانسلر انگیلا میرکل کے خیال میں کیمرون کی طرف سے پیش کیے جانے والے مطالبات میں سے ’کچھ مشکل، جبکہ دیگر کم مشکل‘ ہیں۔ تاہم ان کا یہ کہنا ہے کہ وہ معقول حد تک پر اعتماد ہیں کہ معاہدہ ہو جائے گا۔

برطانیہ میں یورپی یونین میں رہنے یا اخراج کے سوال پر 2017ء میں ایک ریفرنڈم ہونا طے ہے

برطانیہ میں یورپی یونین میں رہنے یا اخراج کے سوال پر 2017ء میں ایک ریفرنڈم ہونا طے ہے

کیمرون تین دیگر کم متنازعہ معاملات میں اصلاحات کے خواہاں ہیں: مقابلہ بازی کی فضا میں بہتری، یورو زون اور یورو زون سے باہر کے ممالک کے درمیان زیادہ ’فیئرنیس‘ یا شفافیت اور خودمختاری سے متعلق معاملات۔ اس میں یورپی یونین کا ’زیادہ سے زیادہ قریبی اتحاد‘ ہدف بھی شامل ہیں۔

برطانیہ 1973ء میں اس وقت کی ’یورپیئن اکنامک کمیونٹی‘ میں شامل ہوا تاہم اس کے بعد بننے والے وزرائے اعظم نے اسے اس اتحاد سے دور ہی رکھا۔ برطانیہ نے خود کو 2002ء میں معرض وجود میں آنے والے مشترکہ کرنسی زون ’یورو زون‘ سے خود کو باہر ہی رکھا۔

رواں ماہ مئی میں دوسری مرتبہ وزیراعظم منتخب ہونے کے بعد ڈیوڈ کیمرون نے یورپی یونین میں شامل رہنے یا اسے چھوڑ دینے کے سوال پر اپنا انتخابی وعدہ پورا کرنے کا اعلان کیا تھا۔ اے ایف پی کے مطابق ڈونلڈ ٹُسک برطانوی شرائط پر رکن ممالک کے ساتھ صلاح و مشورے کا سلسلہ آئندہ ہفتے شروع کریں گے۔ جبکہ دسمبر میں برسلز میں ہونے والی یورپی سمٹ میں بھی برطانوی مطالبات پر غور وخوض ہو گا۔