1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

یورپی یونین میں ایک لاکھ بیس ہزار مہاجرین کی آباد کاری پر اتفاق ہو گیا

یورپی یونین کے وزرائے داخلہ نے ایک لاکھ بیس ہزار مہاجرین کو رکن ممالک میں آباد کرنے سے متعلق ایک منصوبے کو اکثریتی رائے سے منظور کر لیا ہے۔

اس منصوبے کے تحت آئندہ دو سالوں کے دوران ان مہاجرین کو مختلف یورپی ممالک میں ایک کوٹے کے تحت آباد کیا جائے گا۔ بتایا گیا ہے کہ اس منصوبے کے تحت یونان، اٹلی اور ہنگری میں موجود ایسے مہاجرین، جن کو بین الاقوامی سطح پر حقیقی تحفظ کی ضرورت ہے، کو یورپی یونین کے رکن مختلف ممالک میں پناہ دی جائے گی۔

DW.COM

یورپی یونین کے مطابق ابتدائی طور پر پناہ کے متلاشی افراد کی رجسٹریشن کا کام ہنگری، یونان اور اٹلی میں کیا جائے گا جبکہ اس دوران شام، عراق اور اریٹریا کے باشندوں کو ترجیح دی جائے گی۔

منگل کو برسلز میں منعقد ہونے والی ای یو وزرائے داخلہ کی ایک ہنگامی ملاقات میں اس اہم منصوبے پر اتفاق رائے کو مہاجرین کے بحران سے نمٹنے کے حوالے سے ایک اہم پیشرفت قرار دیا جا رہا ہے۔ گزشتہ کئی دنوں سے یورپی رہنما اس معاملے پر اختلافات کا شکار تھے۔ تاہم منگل کو ہونے والی میٹنگ میں یورپی یونین رکن ممالک کے وزرائے داخلہ آخر کار ایک مشترکہ لائحہ عمل پر اتفاق رائے کرنے میں کامیاب ہو گئے۔

یورپی یونین کے موجودہ صدر ملک لکسمبرگ کی طرف سے ایک ٹویٹ پیغام میں کہا گیا کہ یورپی یونین رکن ممالک نے ایک لاکھ بیس ہزار مہاجرین کی منصافانہ تقسیم کے حوالے سے اکثریت رائے سے اتفاق کر لیا گیا ہے۔ چیک جمہوریہ کے وزیر داخلہ نے ایک علیحدہ ٹویٹ میں لکھا، ’’چیک ری پبلک، سلوواکیہ، رومانیہ اور ہنگری نے اس قرار داد کے خلاف ووٹ دیا جبکہ فن لینڈ نے اپنی رائے محفوظ رکھی۔ لیکن اس منصوبے پر اتفاق کر لیا گیا ہے۔‘‘

ہنگری کی سربراہی میں یہ تینوں ممالک یورپی کمیشن کے اس منصوبے کی سخت مخالفت کر رہے تھے۔ ان ممالک کا موقف ہے کہ برسلز کے پاس ایسے حقوق نہیں کہ وہ انہیں ہزاروں کی تعداد میں مہاجرین کو پناہ دینے کے لیے زور دے سکے۔ چیک ری پبلک، سلوواکیہ، رومانیہ اور ہنگری کا یہ بھی کہنا ہے کہ یہ ان ممالک کی قومی خودمختاری کی خلاف ورزی کے مترادف ہے۔ سلوواکیہ کے وزیر اعظم نے تو اس کوٹہ سسٹم کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا ہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی نے ایک سفارتکار کے حوالے سے بتایا ہے کہ برسلز میں منگل کو لیا گیا یہ فیصلہ دراصل زیادہ تر ممالک کی رضا مندی کے نتیجے میں عمل میں آیا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ یورپی کمیشن ایک لاکھ بیس ہزار مہاجرین کی آباد کاری کے اس منصوبے پر تمام اٹھائیس رکن ممالک کی مشترکہ حمایت حاصل کرنے میں ناکام ہو گیا ہے۔

Ungarn schließt den Ost-Bahnhof in Budapest

ایسے مہاجرین، جن کو بین الاقوامی سطح پر حقیقی تحفظ کی ضرورت ہے، کو یورپی یونین کے رکن مختلف ممالک میں پناہ دی جائے گی

یورپی یونین کے دو طاقتور ممالک جرمنی اور فرانس کے حمایت یافتہ اس منصوبے پر گزشتہ ہفتے بھی مذاکرات کیے گئے تھے۔ لیکن تب یورپی یونین کے وزرائے داخلہ کسی اتفاق رائے تک نہیں پہنچ سکے تھے۔ تاہم بتایا گیا ہے کہ منگل کے دن اس منصوبے پر ووٹنگ کی گئی، جس سے زیادہ تر ممالک نے اس کے حق میں ووٹ دے کر اسے منظور کر لیا۔

یورپی یونین کے قوانین کے مطابق کامیاب ووٹنگ کے بعد اب مخالفت کے باوجود تمام رکن ممالک کا اس منصوبے پر عملدرآمد کرنا لازمی ہو گا۔ دوسری عالمی جنگ کے بعد یورپ کو مہاجرین کے سب سے بڑے بحران کا سامنا ہے۔ اس بحران کے تناطر میں بدھ کے روز یورپی یونین کے لیڈران کا سربراہ اجلاس بھی منعقد کیا جا رہے ہے۔ دوسری طرف یورپ میں مہاجرین کی آمد کا سلسلہ جاری ہے۔