1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

یورپی یونین مہاجرین کے معاملے میں ’ناکام‘ رہی، ینکر

یورپی کمیشن کے صدر ژاں کلود ینکر نے کہا ہے کہ یورپی یونین کی رکن ریاستیں مہاجرین کے بحران کے حل کے لیے مل کر کام کرنے میں ناکام رہیں اور ایسے میں ریاستی سرحدوں کی دوبارہ نگرانی داخلی منڈی کے لیے قاتل ثابت ہو سکتی ہے۔

پندرہ جنوری جمعے کے روز یورپی کمیشن کے سربراہ نے کہا کہ مہاجرین کے بحران سے نمٹنے کے لیے سرحدوں پر جانچ پڑتال کا عمل دوبارہ متعارف کرانے سے یورپی یونین کی داخلی مارکیٹ کو شدید نقصان پہنچے گا۔ نئے سال کے لیے اپنی ترجیحات بتاتے ہوئے ینکر نے کہا کہ وہ ہزاروں مہاجرین کو مختلف یورپی ممالک میں تقسیم کرنے اور بسانے سے متعلق اپنی کاوشیں جاری رکھیں گے۔ یہ بات اہم ہے کہ اٹلی اور یونان میں لاکھوں مہاجرین موجود ہیں اور گزشتہ برس اکتوبر میں یورپی یونین کی رکن ریاستوں نے مشرقی یورپی ممالک کی مخالفت کے باوجود اس بارے میں ایک معاہدے پر اتفاق کر لیا تھا۔

شام اور دیگر ملکوں سے ترک وطن کے بعد یورپی یونین میں داخل ہونے والے مہاجرین میں سے مجموعی طور پر ایک لاکھ ساٹھ ہزار پناہ گزینوں کو مختلف یورپی ممالک میں تقسیم کیا جانا ہے، تاہم اب تک صرف 272 مہاجرین ہی کو اس معاہدے کے تحت مختلف ممالک میں پہنچایا جا سکا ہے۔

Frankreich EU Parlament Jean-Claude Juncker

مہاجرین کے بحران کے معاملے میں یورپی یونین اختلاف رائے کا شکار رہی ہے

28 رکنی یورپی یونین کے انتظامی بازو یورپی کمیشن کے سربراہ ینکر کا برسلز میں ایک پریس کانفرنس میں کہنا تھا، ’’یورپی کمیشن نے اس سلسلے میں کوئی کوتاہی نہیں کی۔‘‘

انہوں نے کہا، ’’اس بحران کے حل کے لیے کیا کیا جانے چاہیے اور کیا کرنے کی ضرورت ہے؟ متعدد رکن ریاستیں اس سے مکمل طور پر نمٹنے میں ناکام رہیں۔‘‘

انہوں نے کہا کہ اس بحران کے حل کے لیے مل کر کام کرنے اور ایک مشترکہ حل نکالنے کی بجائے رکن ریاستیں دوبارہ سرحدی نگرانی شروع کر رہی ہیں، جس سے یورپی یونین میں آزادانہ نقل و حرکت کا شینگن معاہدہ خطرت میں پڑ گیا ہے۔

’’شینگن کی موت یورپی یونین کی داخلی مارکیٹ کی بھی قبر ہو گی، جس سے بے روزگاری میں اضافہ ہو گا اور پھر اس سے نمٹا نہیں جا سکے گا۔‘‘

یورپی یونین پہلے ہی بڑے اقتصادی مسئلے کا شکار ہے اور مجموعی طور پر دس فیصد افراد بے روزگار ہیں۔ اسپین اور یونان میں نوجوانوں میں بے روزگاری کی شرح تو 50 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔

’’جب اس مسئلے کے اثرات نیچے تک پہنچیں گے، تو اقتصادی طور پر ہمیں ترقی میں کمی کی صورت میں ایک بہت بڑی قیمت ادا کرنا پڑے گی۔‘‘ انہوں نے مزید کہا، ’’شینگن کے بغیر، مزدوروں اور ملازمین کی آزاد نقل و حرکت اور یورپی یونین کے شہریوں کی آزادنہ سفر کی سہولت متاثر ہو گی اور بالآخر یورو مارکیٹ کے باقی رہنے کی کوئی وجہ نہیں بچے گی۔‘‘