1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

یورپی یونین مہاجرین کو ہنگری واپس بھیجنے سے اجتناب کرے، اقوام متحدہ

اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ ہنگری میں تارکین وطن کے ساتھ ابتر سلوک اور بری صورت حال کے تناظر میں یورپی ممالک مہاجرین کو دوبارہ ہنگری بھیجنے جیسے اقدامات سے پرہیز کریں۔

پیر کے روز اقوام متحدہ کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ہنگری میں مہاجرین اور تارکین وطن کے لیے حالات ناسازگار ہیں اور ایسے میں یورپی یونین کے رکن ممالک کو چاہیے کہ وہ اپنے ہاں پہنچنے والے تارکین وطن کو دوبارہ ہنگری نہ بھیجیں۔

ہنگری میں تارکین وطن کی حالت پہلے ہی خراب تھی، تاہم گزشتہ ماہ بوڈاپیسٹ حکومت کی جانب سے نئے قوانین متعارف کرائے جانے کے بعد سیاسی پناہ کے متلاشی افراد کو زیرحراست رکھنے کے اقدامات نے، یہ صورت حال مزید ابتر بنا دی ہے۔

Ungarisch-Serbische Grenze Containerlager für Flüchtlinge (picture-alliance/AP Photo/D. Vojinovic)

ہنگری میں نئے قانون کے تحت تارکین وطن کو حراست میں رکھا جاتا ہے

اقوام متحدہ کے کمشنر برائے مہاجرین فِلیپو گرانڈی نے کہا، ’’میں یورپی ممالک سے التماس کرتا ہوں کہ وہ ڈبلن معاہدے کے تحت سیاسی پناہ کے متلاشی افراد کو ہنگری کے حکام کے حوالے کرنے کے عمل کو معطل کر دیں، کیوں کہ وہاں کے حکومتی اقدامات اور پالیسیاں یورپی اور بین الاقوامی قانون سے مطابقت نہیں رکھتیں۔‘‘

یورپی یونین کے ڈبلن معاہدے کے تحت سیاسی پناہ کے کسی متلاشی شخص کو ایک سے زیادہ ممالک میں درخواستیں جمع کرانے سے روکنے کے لیے ضابطہ طے کیا گیا تھا۔ اس معاہدے کے مطابق کسی تارک وطن کو یورپی یونین کی اس پہلی رکن ریاست میں واپس بھیج دیا جاتا ہے، جہاں وہ سب سے پہلے پہنچا۔ یورپی یونین کی رکن ریاستوں کے علاوہ یونین کی غیررکن ریاستیں ناروے اور سوئٹزرلینڈ بھی اس معاہدے کی پابند ہیں۔

ہنگری پہلے ہی یورپی ممالک کی جانب سے ڈبلن نظام کے تحت تارکین وطن کی منتقلی کو مسترد کرتا ہے، کیوں کہ اس کا موقف ہے کہ اس کی سرزمین سے گزر کر مغربی یورپ پہنچنے والے مہاجرین میں سے زیادہ تر یونان کے راستے یورپ میں داخل ہوئے اور انہیں بھیجا بھی وہیں جانا چاہیے۔

ایک امدادی ادارے کے مطابق گزشتہ برس ہنگری کو اس نظام کے تحت تارکین وطن قبول کرنے سے متعلق قریب ستائیس ہزار درخواستیں موصول ہوئیں، تاہم اس نے صرف پانچ سو تیرہ تارکین وطن کو قبول کیا۔