1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

یورپی یونین ماحولیاتی مسائل پر مشترکہ لائحہ عمل طے نہ کر سکی

یورپی یونین کا دوروزہ اجلاس برسلز میں جاری ہے۔ جمعرات کو اس اجلاس کے پہلے دن رکن ممالک ماحولیاتی مسائل پر قابو پانے کے لئے مشترکہ لائحہ عمل پر متفق نہیں ہو سکے۔ تاہم لزبن ٹریٹی کی راہ میں حائل آخری رکاوٹ دُور ہو گئی ہے۔

default

جرمن چانسلر میرکل برسلز سربراہی اجلاس میں، وزیر خارجہ گیڈو ویسر ویلے بھی نمایاں ہیں

یورپی رہنما اجلاس کے دوران اس پہلو پر غور کر رہے ہیں کہ مشرقی یورپ میں قائم صنعتوں کی جانب سے درجہ حرارت میں اضافے پر کس طرح قابو پایا جائے۔ خطے کی یہ صورت حال ماحولیاتی تبدیلیوں کے موضوع پر مستقبل میں طے پانے والے کسی بھی عالمی معاہدے پر منفی اثرات مرتب کر سکتی ہے۔

ایک اندازے کے مطابق ترقی پذیر ممالک میں ماحولیاتی مسائل سے نمٹنے کے لئے 2020ء تک سالانہ ایک سو ارب یورو کی ضرورت ہے۔ یورپ کے ترقی یافتہ ممالک اس رقم کی فراہمی پر متفق ہو چکے ہیں۔ تاہم اس بات پر اتفاق رائے باقی ہے کہ مالی وسائل کا بوجھ کس طرح بانٹا جائے۔

EU Gipfel in Belgien Schwedischer Premierminister Fredrik Reinfeldt

یورپی یونین کی ششماہی صدارت کے ملک سویڈن کے وزیر اعظم فریڈرک رائنفیلڈ

یورپی یونین کے اس اجلاس کی صدارت سویڈن کے وزیر اعظم فریڈرک رائنفیلڈ کر رہے ہیں، جن کا ملک یورپی یونین کی موجودہ ششماہی کا صدر بھی ہے۔ رائنفیلڈ نے جمعرات کو اجلاس کے بعد صحافیوں سے بات چیت میں کہا کہ ماحولیاتی مسائل کے حوالے سے اخراجات پر اتفاق رائے نہیں ہو سکا۔ انہوں نے کہا کہ رقم کی فراہمی کے اہداف پر زیادہ سنجیدگی دکھائی جائے تو یہ یورپ کی جانب سے بہتر قیادت کا ایک اشارہ ہو گا۔ فریڈرک رائنفیلڈ نے کہا کہ ماحولیاتی مسائل پر اخراجات بانٹنے کے لئے وسیع تر حمایت حاصل کرنے کی کوشش کی جائے گی تاکہ مثبت سمت میں پیش قدمی ہو سکے۔ تاہم انہوں نے یہ بھی تسلیم کیا کہ اس حوالے سے رکن ممالک کے درمیان اختلافات پائے جاتے ہیں۔

ماحولیاتی تبدیلیوں کے معاملے پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے جرمن چانسلر انگیلا میرکل نے کہا کہ رقم کی فراہمی کے لئے یورپی ریاستوں کو اپنا موقف واضح کرنا ہوگا۔ تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ امریکہ اور چین کتنی رقم فراہم کر سکتے ہیں، انہیں بھی اس بات کی وضاحت کرنا ہوگی۔

ماحولیاتی تبدیلیوں سے متعلق حتمی عالمی معاہدہ رواں برس دسمبر میں کوپن ہیگن میں منعقد ہونے والی کانفرنس میں طے پا سکتا ہے۔ اس دوران کیوٹو پروٹوکول معاہدے کے متبادل پر بات چیت ہو گی، جس کی مدت 2012ء میں ختم ہو جائے گی۔

EU-Gipfel in Brüssel

برسلز اجلاس میں پولینڈ کا وفد

ترقی پذیر ممالک کا موقف ہے کہ امیر ریاستوں نے ماحولیاتی تبدیلیوں پر قابو پانے کے لئے مناسب فنڈز جاری نہ کئے تو وہ عالمی معاہدے پر دستخط نہیں کریں گے۔

دوسری جانب یورپی یونین نے جمعرات کو اسی اجلاس کے دوران لزبن ٹریٹی کی راہ میں حائل آخری رکاوٹ دُور کر لی ہے اور چیک جمہوریہ کے خدشات کو دور کردیا گیا ہے۔ یورپی یونین کے ممالک میں اصلاحاتی معاہدے لزبن ٹریٹی کو حتمی شکل دینے کے تمام ستائیس رکن ممالک کی جانب سے اس کی توثیق لازمی ہے۔ چھبیس ممالک اس کی منظوری دے چکے ہیں جبکہ چیک جمہوریہ کی جانب سے فیصلے کا انتظار کیا جا رہا ہے۔

چیک جمہوریہ کے صدر واسلا کلاؤس نے معاہدے کی منظوری کو بعض ترامیم سے مشروط کر رکھا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ چیک جمہوریہ کو یورپی یونین کے انسانی حقوق کے چارٹر سے مستثنیٰ کیا جائے گا۔ اب یورپی رہنماؤں نے ان کا مطالبہ منظور کر لیا ہے۔ اس موقع پر یورپی کمیشن کے صدر خوزے مانوئیل باروسو نے کہا کہ لزبن ٹریٹی کی راہ میں حائل آخری سیاسی رکاوٹ دُور کر دی گئی ہے۔

اُدھر پراگ حکومت کا کہنا ہے کہ صدر واسلا کلاؤس یورپی یونین کے اس اقدام سے مطمئن ہیں۔ چیک وزیر اعظم جان فشر نے رواں برس کے آخر تک ٹریٹی کی توثیق کا عندیہ بھی دیا ہے۔

رپورٹ: ندیم گِل

ادارت: عابد حسین

DW.COM