1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

یورپی یونین سے انخلا: برطانیہ جلد عملدرآمد کرے، یورپی کمشنر

یورپی یونین کے جرمنی سے تعلق رکھنے والے ڈیجیٹل معیشت کے نگران کمشنر گُنٹر اوئٹنگر نے مطالبہ کیا ہے کہ برطانیہ بریگزٹ ریفرنڈم کے بعد ایک رکن ملک کے طور پر یورپی یونین سے انخلا کے اپنے فیصلے پر جلد عملدرآمد کرے۔

جرمن دارالحکومت برلن سے پیر ستائیس جون کے موصولہ نیوز ایجنسی روئٹرز کی رپورٹوں کے مطابق گُنٹر اوئٹنگر نے کہا کہ برطانوی عوام نے تئیس جون کے ہونے والے ریفرنڈم میں اپنے ملک کے یورپی یونین سے انخلا کا جو فیصلہ کیا، لندن حکومت کو اس پر جلد از جلد عمل کرنا چاہیے تاکہ اس فیصلے کے بعد برطانیہ اور اس یورپی بلاک میں سرمایہ کاری کرنے والے اداروں میں پائی جانے والی بے چینی کا بلاتاخیر خاتمہ کیا جا سکے۔

روئٹرز کے مطابق یورپی یونین کے لزبن معاہدے کے آرٹیکل پچاس کی رو سے برطانیہ کے یونین سے اخراج کا عمل اس وقت شروع ہو گا جب برطانوی وزیر اعظم یہ عملی فیصلہ کریں گے کہ برطانیہ یونین سے الگ ہونا چاہتا ہے۔ اس طرح جب عملی اقدامات شروع کیے جائیں گے، تو برطانیہ کے پاس ان کی تکمیل کے لیے مجموعی طور پر دو سال کا وقت ہو گا۔

یورپی حکام کے مطابق برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کمیرون جب کل منگل اٹھائیس جون کے روز برسلز میں یورپی سربراہان مملکت و حکومت کی ایک کانفرنس میں یونین کے رکن باقی ستائیس ملکوں کے رہنماؤں سے ملیں گے، تو وہ یونین کے لزبن معاہدے کی پچاسویں شق پر عمل درآمد کا اعلان کر سکتے ہیں۔

لیکن مسئلہ اس وقت یہ ہے کہ جمعہ چوبیس جون کو برطانوی ریفرنڈم کے نتائج سامنے آنے کے بعد وزیر اعظم ڈیوڈ کمیرون نے کہا تھا کہ وہ اس سال اکتوبر میں اپنے عہدے سے مستعفی ہونے کا اراد رکھتے ہیں اور چاہیں گے کہ برطانیہ کے یونین سے اخراج کا عمل وہ خود نہیں بلکہ ان کا جانشین سربراہ حکومت شروع کرے۔

ADAC Hauptversammlung in Lübeck Günther Oettinger

یورپی یونین کے ڈیجیٹل معیشت کے نگران کمشنر گُنٹر اوئٹنگر

کیمرون کے اس موقف پر تنقید کرتے ہوئے یورپی یونین کے ڈیجیٹل اکانومی اور ڈیجیٹل سوسائٹی کے نگران کمشنر گُنٹر اوئٹنگر نے پیر کے روز کہا کہ ہر وہ دن جب دنیا برطانیہ کی یورپی یونین میں رکنیت کے حوالے سے شکوک و شبہات کا شکار رہے گی، ایسا ہر دن برطانیہ کے ساتھ ساتھ باقی ماندہ یورپی یونین میں بھی سرمایہ کاری کرنے والے اداروں کو مسلسل بے یقینی کی حالت میں رکھے گا، جسے کسی بھی طرح اچھا اور سود مند قرار نہیں دیا جا سکتا۔

گُنٹر اوئٹنگر نے برلن میں جرمن ریڈیو کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہا، ’’اگر وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون اور ان کی کنزرویٹو پارٹی اس سال اکتوبر تک انتظار کرتے ہیں، تو وہ صرف نقصان کا باعث ہی بنیں گے۔‘‘

یورپی کمشنر اوئٹنگر کے اس بیان کا ایک اہم پس منظر یہ بھی ہے کہ گزشتہ جمعے کے روز، جب برطانیہ میں ریفرنڈم کے نتائج سامنے آئے تھے، تو عالمی مالیاتی منڈیوں اور بازار ہائے حصص میں صرف ایک دن میں سرمایہ کاروں کو قریب دو ٹریلین ڈالر کا نقصان ہوا تھا اور برطانوی کرنسی پاؤنڈ سٹرلنگ کی امریکی ڈالر کے مقابلے میں قیمت اتنی کم ہو گئی تھی، جتنی کسی ایک دن میں گزشتہ 31 برسوں میں کبھی دیکھنے میں نہیں آئی تھی۔

DW.COM