1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

یورپی یونین سمٹ نے ڈیوڈ کیمرون کی ’خواہش‘ پوری کر دی

یورپی یونین کی برسلز منعقدہ دو روزہ سربراہ کانفرنس میں سربراہانِ مملکت و حکومت کے درمیان برطانیہ کے لیے اصلاحات کے ایک ایسے پیکج پر اتفاقِ رائے ہو گیا ہے، جس کا مقصد اس ملک کو یورپی یونین چھوڑنے سے روکنا ہے۔

Brüssel EU Gipfel - David Cameron

ڈیوڈ کیمرون نے اس ڈیل کو برطانیہ کے مفادات کی ضامن قرار دے کر اپنے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ یونین میں برطانیہ کی شمولیت جاری رکھنے کے حق میں رائے دیں

یہ سمجھوتہ اٹھارہ گھنٹے تک جاری رہنے والے پیچیدہ مذاکرات کے بعد عمل میں آیا۔ سمٹ میں شریک برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون کسی ایسے سمجھوتے پر پہنچنا چاہتے تھے، جسے دکھا کر وہ اپنے ملک میں مجوزہ ریفرنڈم میں اُن ووٹرز کو یورپی یونین کے حق میں ووٹ ڈالنے کا قائل کر سکیں، جو یونین میں برطانیہ کی رکنیت کے حوالے سے شکوک و شبہات کا شکار ہیں۔ یہ ریفرنڈم ممکنہ طور پر اس سال 23 جون کو منعقد کیا جا سکتا ہے۔ یہ ریفرنڈم اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ ہو گا کیونکہ اب تک کسی بھی رکن ملک نے یورپی یونین چھوڑنے یا اس میں آئندہ بھی رکنیت رکھنے کے موضوع پر اس طرح سے رائے شماری نہیں کروائی۔

یورپی یونین کے ہیڈکوارٹر اور بیلجیم کے دارالحکومت برسلز میں یہ سربراہ کانفرنس جمعرات کو شروع ہوئی تھی لیکن پہلے روز پوری رات اور اگلی صبح تک بھی جاری مذاکرات کے بعد کوئی اتفاقِ رائے عمل میں نہیں آسکا تھا۔ جمعے کو دوسرے روز بھی اس ’ڈیل‘ پر بات چیت جاری رہی اور بالآخر اضافی وقت میں اس سمجھوتے کو تمام رکن ملکوں نے متفقہ طور پر منظور کر لیا۔ یورپی کونسل کے صدر ڈونلڈ ٹسک نے وضاحت سے اس بات کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ اس اصلاحاتی پیکج کی منظوری اتفاقِ رائے سے عمل میں آئی ہے۔

ایک وقت پر ایسا لگ رہا تھا کہ اس سمٹ میں شاید مزید ایک رات تک کے لیے توسیع کرنا پڑے کیونکہ مشرقی یورپی ممالک کی جانب سے اس سمجھوتے کے خلاف شدید مزاحمت سامنے آ رہی تھی۔ اُن کی جانب سے اس ڈیل میں شامل اس شق پر کافی اعتراضات کیے گئے کہ یورپی یونین سے نقل مکانی کر کے برطانیہ میں کام کرنے والے وہ شہری، جن کے بچے اُن کے ساتھ نہیں بلکہ پیچھے اپنے اپنے ملکوں میں ہوں گے، بچوں کے خصوصی الاؤنسز سے محروم رہیں گے۔ یہ ایک ایسی تجویز ہے، جسے ڈنمارک کی طرح کے دیگر ممالک بھی اپنے ہاں رائج کرنے کے خواہاں ہیں۔

برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون نے اس ڈیل کی تفصیلات عام کرتے ہوئے بتایا کہ آئندہ یورپی یونین کے رکن ملکوں سے نقل مکانی کر کے برطانیہ میں کام کرنے والے شہریوں کو مکمل سماجی مراعات تک رسائی کے لیے چار سال تک کا انتظار کرنا ہو گا۔ برطانیہ کو سات سال تک کے لیے اس ضابطے کے استعمال کی اجازت دی گئی ہے۔

برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون نے برطانوی عوام سے کہا ہے کہ یہ سمجھوتہ برطانیہ کے مفادات کو تحفظ فراہم کرتا ہے، اس لیے وہ اُن سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ یونین میں برطانیہ کی شمولیت جاری رکھنے کے حق میں رائے دیں۔ انہوں نے کہا کہ ’برطانیہ یونین کے اندر رہتے ہوئے زیادہ مضبوط ہو گا، نہ کہ اسے چھوڑ کر‘۔ کیمرون ہفتے کے روز اپنی کابینہ کو اس ڈیل کی تفصیلات سے آگاہ کریں گے جبکہ پیر کو پارلیمان سے خطاب کریں گے۔

Belgien EU Gipfel Gruppenbild

یورپی کونسل کے صدر ڈونلڈ ٹسک نے وضاحت سے اس بات کا اظہار کرنا ضروری سمجھا کہ اس اصلاحاتی پیکج کی منظوری اتفاقِ رائے سے عمل میں آئی ہے

تاہم آیا اس ڈیل کے بعد بھی برطانوی ووٹر یورپی یونین کے حق میں ہی رائے دیں گے، یہ بات یقین سے نہیں کہی جا سکتی۔ نیوز ایجنسی روئٹرز کی ایک رپورٹ کے مطابق برطانیہ میں یونین کے حق میں اور مخالفت میں رائے رکھنے والوں کی تعداد تقریباً برابر ہے۔ جمعہ اُنیس فروری کو منظرِ عام پر آنے والے ایک سروے کے نتائج کے مطابق یونین سے برطانیہ کے اخراج کے حق میں رائے رکھنے والوں کی تعداد دو فیصد زیادہ تھی۔ جہاں سروے میں شریک چونتیس فیصد برطانوی شہریوں نے یونین کے حق میں رائے دی، وہاں اس کے خلاف رائے رکھنے والوں کی شرح چھتیس فیصد تھی۔ جو شرکاء ابھی تک کوئی فیصلہ نہیں کر پائے کہ اپنا ووٹ کس حق میں دیں، اُن کی شرح اس سروے میں 23 فیصد بتائی گئی ہے۔ سات فیصد کا کہنا تھا کہ وہ ووٹ ڈالنے کا ہی کوئی ارادہ نہیں رکھتے۔

واضح رہے کہ برطانیہ کو پہلے بھی یورپی یونین کا ایک ڈھیلا ڈھالا رکن ہی کہا جا سکتا ہے کیونکہ نہ تو وہ مشترکہ کرنسی یورو کو اپنانے والے ملکوں پر مشتمل یورو زون میں شامل ہوا ہے اور نہ ہی باہمی داخلی سرحدوں پر چیکنگ ختم کرنے والے ملکوں کے شینگن زون کا رکن بنا ہے۔ اسی طرح وہ پولیس اور عدلیہ کے درمیان تعاون کے کئی دیگر معاہدوں میں بھی شامل نہیں ہوا۔