1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

یورپی یونین سمٹ شروع

ستائیس یورپی ریاستوں کا سربراہان مملکت و حکومت کے دو روزہ سربراہی اجلاس شروع ہوگیا ہے۔یہ پہلی مرتبہ ہےکو یورپی یونین کے صدر ہرمن فان رومپوئے باقاعدہ طور پر کسی یورپی اجلاس کی صدارت کر رہے ہیں۔

default

یورپی یونین کے اجلاس میں شریک چانسلر میرکل اور فرانسیسی صدر: فائل فوٹو

برسلز میں ہونے والے اس اجلاس کاایک اہم موضوع مالی مشکلات میں گھرا ملک یونان ہے۔ یورپی رہنما اس بارے میں صلاح و مشورے کر رہے ہیں یونان کو مالی بحران سے نکلنے کے لئے کیا اقدامات اٹھائیں جائیں۔ یورپی سربراہی اجلاس شروع ہونے سے قبل جرمن چانسلر انگیلا میرکل نے ایک مرتبہ پھر یورپی یونین کی جانب سے یونان کے لئے مالی امداد دینے کی مخالفت کی۔ تاہم انہوں نے عالمی مالیاتی ادارے کے ساتھ مل یورو زون میں شامل ممالک کی جانب سے یونان کی مدد کرنے کی تائید کی۔ میرکل کا کہنا تھا

EU-Gipfel George Papandreou Jose Manuel Barroso

یورپی کمیشن کے صدر باروسو اور یونانی وزیراعظم: فائل فوٹو

کہ یہ قدم صرف انتہائی صورتحال میں ہی اٹھایا جانا چاہیے۔ اُن کے خیال میں ایسی تدابیر اختیار کرنی ہونگی، جن سے اس طرح کی صورتحال کا دوبارہ سامنا نہ کرنا پڑے۔

دوسری جانب یونان کے لئے ایک اچھی بھی خبر سنائی دی۔ سویڈن نے یونان کومشروط امداد دینے کی حامی بھری لی۔ سویڈیش وزیراعظم فریڈرک رائن فیلڈ نے کہا کہ اگر عالمی مالیاتی ادارہ آئی ایم ایف یونان کے مسئلے میں تعاون کرے تو سویڈش حکومت بھی اپنا کردار ادا کرنے پر تیار ہے۔ لیکن اس سے پہلے یونان کو اپنی مدد آپ کرنا ہو گی۔

یونان پر اس وقت تین سو ارب یورو کے قرضے ہیں۔ یورپی کمیشن کی خواہش کہ یورو زون میں شامل ممالک مل کر یونان کی مدد کریں۔ یونان کے وزیراعظم جورج پاپاندریو کو امید ہے کہ اگر یونین کی جانب سے اس طرح کےا شارے ملتے ہیں تو یہ مالیاتی منڈیوں کے لئے بہت اچھا ہو گا۔ یونانی وزیر اعظم کے مطابق کوئی بھی اعلان یونان کے تجارتی حلقوں کو اعتماد دینے کے لئے کافی ہے۔ جس کے بعد اُن سے کہا جا سکتا ہے کہ اب اس ملک کواس طرح کام کرنے دو جس طرح وہ چاہتا ہے۔

فروری میں ہونے والے اجلاس میں یورپی سربراہان کا اس بات پر اتفاق

NO FLASH Merkel und Barroso

یورپی یونین کے اجلاس میں مصروفِ گفتگر یورپی کمیشن کے صدر اور جرمن چانسلر: فائل فوٹو

رائے ہو گیا تھا کہ اگر یونان کو ہنگامی صورتحال کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو اس کی امداد کی جائے گی۔ تاہم اس کے بعد یونان کو ایک یورو بھی نہیں دیا گیا۔ قرضوں اور مسائل سے باہر نکلنے کے لئے ایتھنز حکومت نے کئی بچتی پیکجز بھی متعارف کرائے لیکن اسے لینے کے دینے پڑ گئے اور حکومت کے خلاف ملک گیر مظاہرے شروع ہوگئے۔

ایک طرف یورپ کی کئی ریاستوں نے یونان کو اس بحران کا خود ذمہ دار ٹھراتے ہوئے مؤثر اقدامات اٹھانے کی تلقین کی تو وہیں ہسپانوی وزیر اعظم خوسے لوئس سپاتیرو کا کہنا ہے کہ پورپ کو مل کر اس مسئلے کا حل نکالنا چاہیے۔ جمعرات کو برسلز میں سپاتیرو نے کہا کہ یونان کے معاملے میں عالمی مالیاتی ادارے کی مداخلت قابل قبول ہے۔ اس ششماہی کے لئے یونین کے سربراہ ملک سپین کے وزیراعظم پر امید ہیں کو یورپی یونین یونان کا بحران کو حل کرنے میں کامیاب ہو جائی گی۔

رپورٹ : عدنان اسحاق

ادارت: عابد حسین

DW.COM