1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

یورپی یونین سرحدوں کی نگرانی سخت کرنے پر متفق

یورپی یونین کے وزرائے داخلہ نے پیرس حملوں کے بعد یونین کی بیرونی سرحدوں کی نگرانی سخت کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ فیصلے کے بعد یورپی یونین کے باشندوں کے پاسپورٹ بھی چیک کیے جائیں گے۔

فرانسیسی وزیر داخلہ بیرنار کازینوو کا کہنا ہے کہ فرانس اپنی سرحدوں کی نگرانی اس وقت تک جاری رکھے گا جب تک ’دہشت گردی کا بحران‘ ختم نہیں ہو جاتا۔ فرانس نے پیرس پر ہونے والے خونریز حملوں میں 130 شہریوں کی ہلاکت کے بعد سے اپنی سرحدوں کی نگرانی کرنے کا غیر معمولی فیصلہ کیا تھا۔

یونین کے وزارئے داخلہ نے شینگن کے آزادانہ نقل و حمل والے ممالک کی حدود میں داخل ہونے اور باہر جانے والے افراد کو کنٹرول کرنے کے پہلے سے طے شدہ فیصلے پر فوری عمل درآمد کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ تاحال سبھی رکن ممالک سفر کرنے والوں کی ایسی جانچ پڑتال نہیں کر رہے جس سے یہ معلوم ہو سکے کہ آیا کوئی چوری شدہ سفری دستاویزات کے ساتھ سفر تو نہیں کر رہا۔

وزارئے داخلہ نے آزادانہ سفری معاہدے یا شینگن قانون پر بھی نظر ثانی کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ فرانس کا کہنا ہے کہ رو‌اں برس کے اختتام تک شینگن میں بڑی تبدیلیاں تجویز کی جائیں گی۔ مجوزہ منصوبے پر عمل درآمد کی صورت میں یورپی یونین کے شہریوں کا بائیومیٹرک ڈیٹا حاصل کرتے ہوئے اس کی تصدیق کی جا سکے گی۔ ابھی تک صرف انہی لوگوں کو اس عمل سے گزرنا پڑتا تھا جو یورپی یونین کے شہری نہیں ہیں۔

پیرس حملوں کے ذمہ دار عسکریت پسند فرانس اور بیلجیم کے شہری تھے لیکن انہوں نے بیرون ملک جا کر دہشت گردی کی تربیت حاصل کی تھی۔ یورپی یونین کو گزشتہ کافی عرصے سے اپنے باشندوں کے شام اور عراق جا کر ’دولت اسلامیہ‘ اور اس جیسے دیگر شدت پسند گروہوں میں شامل ہونے اور پھر واپس وطن آ کر حملوں کی منصوبہ بندی کرنے کے خدشات کا سامنا رہا ہے۔

جرمنی کے وزیر داخلہ تھوماس ڈے میزیئر نے برسلز میں ہونے والے اجلاس سے قبل کی گئی ایک گفتگو میں کہا، ’’ہمیں معلوم ہونا چاہیے کہ کون یورپ سے باہر جا رہا ہے اور کون واپس آ رہا ہے۔‘‘ انہوں نے یہ بھی کہا کہ جرمنی میں تقریباﹰ ہر روز ایسے افراد کو گرفتار کیا جاتا ہے جو ’دولت اسلامیہ‘ یا دیگر شدت پسند تنظیموں میں شامل ہونے کے لیے شام اور دیگر ممالک کی جانب سفر کرنے کے لیے نکلتے ہیں۔

DW.COM