1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

یورپی یونین سربراہ کانفرنس

رواں ششماہی کے لئے یورپی یونین کے صدر ملک پرتگال کے دارالحکومت لزبن میں یورپی یونین کی دو روزہ سربراہ کانفرنس منعقد ہو رہی ہے۔ اِس کانفرنس کا مرکزی موضوع یونین کے ڈھانچے میں اصلاحات کے نئے معاہدوں پر رکن ملکوں کے درمیان اتفاقِ رائے پیدا کرنا ہے۔

default

گذشتہ تین برسوں کے اندر اندر یورپی یونین کے رکن ملکوں کی تعداد پندرہ سے بڑھ کر 27 ہو چکی ہے۔ تقریباً 500 ملین شہریوں پر مشتمل یہ برادری دُنیا کے اسٹیج پر ایک مؤ‎ثر اور مضبوط کردار تبھی ادا کر سکتی ہے، جب اِس کے اندر فیصلہ سازی کا عمل تیز رفتار اور رکاوٹوں سے پاک ہو۔

یونین کے ڈھانچے میں اصلاحات کے معاملے پر یوں تو گذشتہ دَس برسوں سے بحث مباحثہ جاری ہے لیکن اِس سال کی پہلی ششماہی کے دوران، جب جرمنی اپنی باری پر یونین کا صدر ملک تھا، اِن اصلاحات پر مشتمل حتمی معاہدوں کے مسودے تیار کر لئے گئے۔ رواں ششماہی کے لئے یونین کے صدر ملک پرتگال کے دارالحکومت لزبن میں منعقدہ کانفرنس کا مقصد اِنہی معاہدوں کی منظوری ہے۔یہ نئے معاہدے اُس مشترکہ یورپی آئین کی جگہ لیں گے، جسے فرانس اور ہالینڈ میں منعقدہ ریفرینڈمز میں عوام نے مسترد کر دیا تھا۔ جرمن چانسلر انگیلا میرکل نے کہا:

”مَیں اُمید کرتی ہوں کہ سب رکن ممالک اتفاقِ رائے پر پہنچنے کے لئے پرُ عزم ہوں گے لیکن ہمیں کافی زیادہ کام بھی کرنا پڑے گا۔ ایسا اکثر ہوا ہے کہ بالکل آخری لمحات میں کچھ ایسے مسائل سامنے آ جاتے ہیں، جنہیں آسانی سے حل نہیں کیا جا سکتا۔ ہمیں خوش اُمید تو رہنا چاہیے لیکن بہت ہی محتاط ہو کر۔“

جرمن چانسلر کی یہ احتیاط اِس لئے بجا کہی جا سکتی ہے کہ برسلز میں ہونے والی گذشتہ سربراہ کانفرنس بھی کچھ رکن ممالک کی طرف سے اُٹھائے گئے اعتراضات کے باعث ناکام ہوتے ہوتے بچی۔ دریں اثناء یہ خدشات ظاہر کئے جا رہے ہیں کہ رکن ممالک میں توسیع کے بعد اب ہر رکن ملک اپنی خواہشات اور مطالبات منوانا چاہتا ہے۔

یورپی کمیشن کے صدر خوسے مانوعیل باروس اِن خدشات کا اعتراف کرتے ہوئے کہتے ہیں: ”ظاہرہے، ہمیں اِس بات کا افسوس ہے کہ اِن معاہدوں کے حوالے سے عمومی حمایت کے حصول کےلئے ہمیں چند ایک ملکوں کو مراعات دینی پڑیں۔ لیکن ہم اِن اعتراضات کا احترام کرتے ہیں اور ہم فیصلہ کن انداز میں ایسے حل کو ترجیح دیتے ہیں، جس کی ایک دو ملک بھلے ہی مخالفت کریں لیکن اُسے اکثریت کی حمایت حاصل ہو۔ اِس طرح کے حل پر اتفاق کر لینا بہتر ہے، بجائے اِس کے کہ تعطل اور جمود پیدا ہو جائے اور بات آگے ہی نہ بڑھ سکے۔“

اعتراض کرنے والے ممالک میں برطانیہ اور پولینڈ کے ساتھ ساتھ اب اٹلی بھی شامل ہو گیا ہے، جسے شکوہ ہے کہ یورپی پارلیمان میں نشستوں کی تشکیلِ نو کے بعد اُس کے حصے کی نشستوں میں کہیں زیادہ کمی ہوئی ہے۔ اِن نئے معاہدوں میں فیصلہ سازی کے عمل کے لئے دہری اکثریت کا اصول وضع کیا گیا ہے۔ یعنی کوئی فیصلہ تبھی منظور شُدہ تصور کیا جائے گا، جب اُسے کم از کم 55 فیصد رکن ملکوں اور یورپی یونین کی مجموعی آبادی کے کم از کم 65 فیصد حصے کی حمایت حاصل ہو گی۔اس نئے اصول پر معترض پولینڈ کو سن 2014ء تک اِس سے مستثنےٰ قرار دیا گیا ہے۔