1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

یورپی یونین تقسیمِ مہاجرین کی تجویز کو ترک کرے: آسٹرین وزیرِ خارجہ

آسٹرین وزیرِ خارجہ نے کہا ہے کہ یورپی یونین کو چاہیے کہ وہ یورپی بلاک میں مہاجرین کی تقسیم کی اپنی غیر حقیقت پسندانہ تجویز کو ترک کرے کیونکہ اس منصوبے پر اختلافِ رائے ساری یورپی یونین کے اتحاد کو خطرے میں ڈال سکتا ہے۔

Österreich Sebastian Kurz (Getty Images/AFP/J. Klamar)

کرس کا مزید کہنا تھا کہ ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ بہت سے مہاجرین نے یورپی یونین کے بعض ممالک میں جانے سے انکار کر دیا ہے

جرمنی کے روزنامے’’ ڈیلی ویلٹ اَم زونٹاگ ‘‘ سے بات کرتے ہوئے آسٹریا کے وزیرِ خارجہ زیباستیان کرس کا کہنا تھا کہ،’’ یورپی یونین کو اب اپنے اُس منصوبے سے ہاتھ اٹھا لینے چاہئیں جس کے تحت  اِس کے رکن ممالک میں ایک لاکھ ساٹھ ہزار تارکینِ وطن کی تقسیم کی جانی ہے۔ کرس نے مزید کہا کہ اب تک محض اس تعداد کے ایک مختصر سے حصے ہی کو آباد کیا جا سکا ہے۔ آسٹرین وزیرِ خارجہ نے یورپی یونین کو خبر دار کرتے ہوئے کہا کہ،’’ یہ تجویز قطعی طور پر غیر حقیقت پسندانہ ہے اور رکن ممالک کا اس منصوبے پر اختلافِ رائے ساری یورپی یونین کے اتحاد کو خطرے میں ڈال سکتا ہے۔‘‘

کرس کا مزید کہنا تھا کہ ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ بہت سے مہاجرین نے یورپی یونین کے بعض ممالک میں جانے سے انکار کر دیا ہے۔ توقع ہے کہ آسٹریا کے قدامت پسندانہ خیالات رکھنے والے وزیرِ خارجہ کے اس بیان کا بوڈا پیسٹ میں خیر مقدم کیا جائے گا۔ خیال رہے کہ ہنگری کے وزیرِ اعظم وکٹور اوربان نے مہاجرین کی یورپی یونین کے رکن ممالک میں منصفانہ تقسیم کے کوٹہ منصوبے کے خلاف سخت مہم چلا رکھی ہےاور توقع کی جا رہی ہے کہ آج ہنگری کے عوام کی ایک غالب اکثریت کے ساتھ یورپی یونین کے تجویز کردہ تارکینِ وطن کے کوٹہ سسٹم  منصوبے کو وہاں ہونے والے ایک ریفرنڈم میں مسترد کر دے گی۔

Budapest Ungarn Referendum Plakate (imago/EST&OST)

مہاجرت پر اوربان کے سخت گیر موقف نے وسطی یورپ میں ان کے اتحادیوں کا دل جیت لیا ہے

کرس نے جرمن اخبار کو دیے اپنے انٹرویو میں تقسیمِ مہاجرین کے مسئلے پر ہنگری کی حکومت کے موقف پر تنقید کرنے سے بھی خبردار کیا۔ یاد رہے کہ ہنگری کے وزیرِ اعظم وکٹور اوربان  کا مہاجرین کی یورپ آمد اور آباد کاری پر موقف جرمن چانسلر کی تارکین وطن کی یورپ میں آزادانہ داخلے کی پالیسی کے بالکل برعکس ہے۔ کرس نے اخبار کو بتایا کہ،’’ اُس وقت صورتِ حال خطرناک ہو جاتی ہے جب یورپی یونین کے بعض رکن ممالک یہ جتانے کی کوشش کرتے ہیں کہ ان کا اخلاقی معیار بعض دوسرے رکن ممالک سے زیادہ بلند ہے۔‘‘

مہاجرت پر اوربان کے سخت گیر موقف نے وسطی یورپ میں ایک طرف ان کے اتحادیوں کا دل جیت لیا ہے تو دوسری جانب یورپی یونین میں شامل مشرقی یورپ کے سابق کمیونسٹ ممالک بھی مہاجرین کی تقسیم کے حوالے سے یورپی یونین کی پالیسی کی مخالفت کر رہے ہیں۔