1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

یورپی یونین اور کیوبا کے مابین ’تاریخی معاہدہ‘، تعلقات بحال

یورپی یونین اور کیوبا نے تعلقات کو معمول پر لانے کے لیے ایک ’تاریخی معاہدے‘ پردستخط کر دیے ہیں۔ یہ پیش رفت ایک ایسے موقع پر ہوئی ہے، جب امریکی صدر باراک اوباما اس جزیرے کا تاریخی دورہ کرنے والے ہیں۔

جمعے کے روز یورپی یونین اور کیوبا کے مابین ہونے والا یہ معاہدہ گزشتہ دو برس سے جاری مذاکرات کا نتیجہ ہے۔ اس معاہدے کے نتیجے میں مغرب میں کیمونسٹ اور ’اچھوت سمجھے جانے والے اس ملک‘ کو بہتر درجہ حاصل ہو جائے گا۔

یورپی یونین کی طرف سے یہ اقدام ایک ایسے وقت میں اٹھایا گیا ہے، جب امریکی صدر باراک اوباما اپنی مفاہمتی پالیسی کے تحت تاریخی اقدام اٹھاتے ہوئے جلد ہی کیوبا کا دورہ کرنے والے ہیں۔ قبل ازیں دسمبر دو ہزار چودہ میں کیوبا کے صدر راؤل کاسترو اور امریکی صدر نے گزشتہ پچاس سال کی دشمنی کو ایک طرف رکھتے ہوئے تعلقات کی بحالی کی طرف قدم بڑھانے کا اعلان کیا تھا۔

یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ فیڈریکا موگیرینی کا ہوانا میں ہونے والی تقریب میں معاہدے پر دستخط کرنے کے بعد کہنا تھا، ’’ہمارے تعلقات کے حوالے سے یہ ایک تاریخی اقدام ہے۔ یہ معاہدہ دو طرفہ تعلقات میں ایک نئے دور کے لیے سنگ میل ثابت ہوگا۔‘‘

اس معاہدے کے بعد موگرینی نے کیوبا کے صدر راؤل کاسترو سے بھی ملاقات کی ہے۔ لاطینی امریکا میں کیوبا ابھی تک وہ واحد ملک تھا، جس کا اٹھائیس رکنی یونین کے ساتھ بین الاقوامی تعاون کا کوئی بھی معاہدہ نہیں تھا۔

یورپی یونین نے سن دو ہزار تین میں کیوبا پر پابندیاں عائد کرتے ہوئے تمام تر تعلقات ختم کر دیے تھے۔ اس وقت اس یورپی اقدام کی وجہ صحافیوں اور کارکنوں کے خلاف حکومتی کریک ڈاؤن بتایا گیا تھا۔

یورپی یونین سن انیس سو چھیانوے سے سرکاری طور پر اپنی خارجہ پالیسی کو کیوبا میں انسانی حقوق کے حوالے دباؤ ڈالنے کے لیے استعمال کرتی آئی ہے۔ جبکہ کیوبا یورپ کی اس نام نہاد ’کامن پوزیشن‘ کو اپنے داخلی معاملات میں دخل اندازی قرار دیتے ہوئے اس کی شدید مخالفت کرتا آیا ہے۔ تاہم موگیرنی کا کہنا تھا کہ اس نئے معاہدے کے تحت یورپی یونین کی ’کامن پوزیشن‘ کا خاتمہ ہو جائے گا۔کیوبا کے ساتھ ہونے والے نئے معاہدے کی ابھی یورپی پارلیمان سے توثیق ہونا باقی ہے۔

ابھی تک اس نام نہاد ’سیاسی ڈائیلاگ‘ نامی معاہدے کا متن بھی شائع نہیں کیا گیا ہے۔ فریقین کی طرف سے جاری ہونے والے بیان میں صرف یہی کہا گیا ہے کہ معاہدے کی بنیاد ’’ دو طرفہ عزت، خیر سگالی اور مشترکہ مفادات‘‘ پر رکھی گئی ہے۔