1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

یورپی یونین اور مالی کے درمیان مہاجرین واپسی کے معاہدے پر دستخط

یورپی یونین نے اتوار مورخہ گیارہ دسمبر کو مالی حکومت کے ساتھ ایک معاہدے پر دستخط کیے ہیں جس کے مطابق اُن مہاجرین کی وطن واپسی کو ممکن بنایا جائے گا جن کی پناہ کی درخواستیں مسترد ہو چکی ہیں۔

Afrika Migration Flüchtlinge (Getty Images/AFP/M. Turkia)

معاہدے کی رُو سے مالی سے آئے تارکینِ وطن کی واپسی کو یقینی بنانے کی کوشش کی جائے گی

یورپی یونین کی جانب سے اِس معاہدے پر دستخط کرنے والی ڈچ وزارتِ خارجہ نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے ،’’ یہ پہلی بار ہے کہ یورپی یونین نے ایک افریقی ملک کے ساتھ پناہ گزینوں کی واپسی کے حوالے سے ایک جامع طریقہ کار وضع کیا ہے۔‘‘ بیان میں کہا گیا ہے کہ معاہدے کی رُو سے ’یورپ کی طرف غیر قانونی مہاجرت کے اسباب کی روک تھام‘  اور مالی سے آئے تارکینِ وطن کی واپسی کو یقینی بنانے کی کوشش کی جائے گی۔

 یہ معاہدہ یورپی یونین کے رہنماؤں اور اُن کے افریقی ہم منصبوں کے ساتھ نومبر سن دو ہزار پندرہ میں مالٹا کے دارالحکومت والیٹا میں ہوئے ایک سربراہی اجلاس کے بعد سامنے آیا۔ اسِ اجلاس میں یورپی یونین رہنماؤں نے اس بات پر رضامندی کا اظہار کیا تھا کہ یورپی یونین غیر قانونی مہاجرت کی وجوہات کے سدِ باب کے لیے 1.8 بلین یورو کا فنڈ قائم کرے گی۔

 بدلے میں افریقی ممالک اپنے سرحدی کنٹرول کو مزید مؤثر بنائیں گے اور ایسے مہاجرین کو بھی واپس قبول کریں گے جن کی پناہ کی درخواستیں نا منظور ہو چکی ہیں۔

 مالی اور یورپی یونین کے درمیان ہوئے اس معاہدے نے نوجوان افراد کے لیے ملک میں ملازمتوں کی تلاش میں مدد کرنے اور ملکی سیکیورٹی فورسز کو مظبوط  بنانے کے منصوبے کی داغ بیل ڈال دی ہے۔ 

اس کے علاوہ مالی اور اس کے ہمسایہ ممالک انسانی اسمگلروں کے خلاف جنگ اور ملکی بارڈرز پر سکیورٹی کی صورتِ حال کو بہتر بنانے میں تیزی لائیں گے۔

DW.COM

ملتے جلتے مندرجات