1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

یورپی یونین اور جنوبی کوریا کے درمیان آزاد تجارتی معاہدے کا امکان

آج جمعرات کو یورپی یونین کے وزرائے خارجہ کا خصوصی اجلاس طلب کیا گیا ہے۔ اس اجلاس کے ایجنڈے میں جنوبی کوریا کے ساتھ آزاد تجارتی معاہدے کے حوالے سے زیر بحث معاملات کو خاص فوقیت حاصل ہے۔

default

سابق جنوبی کوریائی صدر یورپ میں

یورپی یونین کے لیڈران اور جنوبی کوریا کی قیادت کے درمیان سربراہی سمٹ چھ اکتوبرکو شیڈیول ہے۔ اس سربراہی اجلاس سے قبل آزاد تجارتی معاہدےکے مسودے کو حتمی شکل دی جا رہی ہے۔ یورپی یونین کے ذرائع کے مطابق اربوں ڈالرکے معاہدے کے راستے کی تمام رکاوٹوں کو تقریباً دورکیا جا چکا ہے۔ اس معاہدے کے حوالے سے اٹلی کی جانب سےکچھ اعتراضات کئےگئے تھے۔ جنوبی کوریا کے ساتھ آزاد تجارتی معاہدے پر ہونے والے معاہدے پر اٹلی کی جانب سے لگائے گئے اعتراضات کی مناسبت سے یورپی یونین کے وزرائے خارجہ کے دو سابقہ اجلاس بے نتیجہ رہے تھے۔ اطلاعات کے مطابق ان کا بھی حل تلاش کیا جا چکا ہے۔

بلاک اس مناسبت سے مزید تفصیلات جمعرات کے وزرائے خارجہ کے اجلاس میں طے کی جا رہی ہیں۔ وزرائے خارجہ کا اجلاس یورپی لیڈران کی

Europa Reform Vertrag tritt in Kraft 1. Dezember 2009

یورپی یونین کے خارجہ امور کی چیف جنوبی کوریا میں: فائل فوٹو

میٹنگ کے پہلو میں طلب کیا گیا ہے۔ اگر جنوبی کوریا کے ساتھ ہونے والے فری ٹریڈ ایگریمنٹ پر تمام معاملات طے ہوگئے توجمعرات کے سربراہی اجلاس میں کوئی حتمی فیصلہ سامنے آ سکتا ہے۔

تازہ پیش رفت کے بعد یورپی یونین اور جنوبی کوریا کے درمیان فری ٹریڈ ایگریمنٹ پر دستخط چھ اکتوبرکو منعقد ہونے والے خصوصی سربراہی اجلاس میں ہونے کے قوی امکان ہیں۔ بدھ کے روز اٹلی کی جانب سے یونین کو مطلع کیا گیا تھا کہ وہ اس معاملے کو ویٹو کرنے کا اپنا اختیار واپس لے رہا ہے۔ اس اطلاع نے صورت حال پر چھائی گھمبیرتا کو ختم کردیا۔

جنوبی کوریا اور یورپی یونین کے درمیان ہونے والا آزاد تجارتی معاہدہ دستخطوں کے بعد اگلے سال یکم جولائی سے نافذالعمل ہوگا۔ یورپی یونین کے حکام کے مطابق معاہدے کے بعد یونین اور جنوبی کوریا کے درمیان انیس ارب یورو کی نئی تجارت کے دروازے کھل جائیں گے۔

یورپی یونین دنیا کا سب سے بڑا تجارتی زون خیال کیا جاتا ہے۔ جنوبی کوریا دنیا کا آٹھواں بڑا ایکسپورٹر اور دسواں بڑا امپورٹر ملک ہے۔

رپورٹ: عابد حسین

ادارت: عدنان اسحاق

DW.COM

ویب لنکس