1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

یورپی یونین اور بھارت کے درمیان فری ٹریڈ معاہدہ آخری مراحل میں

بھارت اور یورپی یونین کے درمیان فری ٹریڈ معاہدے کے سلسلے میں جاری مذاکرات اپنے آخری مراحل میں داخل ہو گئے ہیں۔ بھارتی جونیئر وزیر برائے تجارت نے اپنے ایک بیان میں ان خبروں کی تصدیق کی ہے۔

default

بھارتی وزیراعظم برسلز میں فائل فوٹو

بھارت کے جونیئر وزیر برائے تجارت Jyotiraditya Scindia کے مطابق یہ مذاکرات اپنے حتمی مراحلے میں داخل ہو چکے ہیں۔ یورپی یونین کے سب سے بڑے تجارتی پارٹنر بھارت کے ساتھ اس معاہدے کے سلسلے میں مذاکرات کے 13 دور گزر چکے ہیں۔ جون سن 2007ء میں 27 رکنی یورپی یونین نے بھارت کے ساتھ مارکیٹ اوپننگ معاہدے کی منظوری دی تھی، تاکہ دوطرفہ تجارت کو مزید وسعت دی جا سکے۔

Jyotiraditya Scindia نے پارلیمان کو بتایا کہ فریقین فری ٹریڈ معاہدے کے سلسلے میں متفقہ گراؤنڈ کے لیے بات چیت میں مصروف ہیں تاکہ ایک متوزن اور شفاف معاہدہ سامنے آ سکے۔

Indien Proteste EU Abkommen Aids

بھارت کو جان بچانے والی ادوایات کے فکری حقوق کے حوالے سے تحفظات ہیں

واضح رہے کہ یورپی یونین اور بھارت ابتدا میں امید کر رہے تھے کہ یہ معاہدہ سن 2010 تک نافذ العمل ہو جائے گا، جس کے نتیجے میں سن 2015 تک اطراف کے درمیان تجارت کا حجم 237 بلین یورو سالانہ تک پہنچنا تھا۔ اس وقت یورپی یونین اور بھارت کے درمیان تجارت کا حجم 92 بلین یورو ہے۔

تاہم بھارت اور یورپی یونین کے درمیان ایڈز اور زندگی بچانے والی ادویات کی فکری ملکیت کے قواعد و ضوابط کے حوالے سے اختلافات کے باعث یہ معاہدہ تاحال اتفاق رائے تک نہیں پہنچ پایا ہے۔

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے انسداد ایڈز UNAIDS کے مطابق اس حوالے سے یورپی یونین کی تجاویز ایچ آئی وی اور ایڈز کے لیے استعمال کی جانے والی ادویات کو عوام کی قوت خرید سے باہر کر سکتی ہیں۔ اس سلسلے میں بھارت بھی یورپی یونین سے استدعا کرتا آیا ہے۔

اس کے علاوہ یورپی یونین کو ماحولیاتی آلودگی اور موسمیاتی تبدیلیوں کے حوالے سے بھارت کے کم مؤثر اقدامات اور بھارت میں بچوں سے مشقت لینے جیسے موضوعات پر اعتراضات ہیں۔

رپورٹ : عاطف توقیر

ادارت : امجد علی

DW.COM