1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

یورپی یونین: انسداد دہشت گردی کے حوالے سے نئی قانون سازی

یورپی پارلیمان نے آج انسداد دہشت گردی کا ایک نیا قانون منظور کر لیا ہے۔ اس طرح اب یورپی یونین کے تمام رکن ممالک میں دہشت گردی کے حوالے سے قانون سازی یکساں ہو گئی ہے۔

آج جمعرات کو فرانسیسی شہر اسٹراس برگ میں قائم یورپی پارلیمان نے انسداد دہشت گردی کی جو نئی قانون سازی منظور کی ہے، اس کے ذریعے یورپی یونین کے تمام رکن ممالک پر لازم ہو گیا ہے کہ وہ کچھ مخصوص طرز عمل اور رویوں کو جرم قرار دیں۔ اس طرح دہشت گردی کی تربیت اور بھرتی کے علاوہ دہشت گردی کا پرچار کرنا یا اس کی مالی مدد کرنا یا اس کے لیے سفر کرنا اب جرم کے زمرے میں آئے گا۔ اس کے لیے ضروری نہیں ہے کہ کوئی شخص کسی ایسے ملک کا سفر کرے کہ جہاں جنگی حالات پیدا ہوں بلکہ اگر اس مقصد کے لیے سفر یورپ کے اندر بھی  کیا جائے تو بھی جرم ہو گا۔

تاہم یورپی سطح پر منظور کیے جانے والے ان قوانین کا اثر جرمنی پر نہیں پڑے گا کیونکہ جرمنی میں دہشت گردی کے کسی مرکز کا دورہ کرنا یا دہشت گردوں کی امداد کرنا پہلے ہی قابل سزا ہے۔ سلامتی کے امور کے یورپی کمشنر جولیان کنگ نے اس تناظر میں کہا کہ یہ انتہائی ضروری ہے کہ تمام رکن ممالک میں دہشت گردی کے خلاف قوانین ایک جیسے ہوں اور ان پر ایک ہی طرح سے عمل درآمد کیا جائے۔

اس طرح اب یورپی یونین نے دہشت گردی کی تعریف کا تعین نئے سرے سے کر دیا ہے۔ گرین پارٹی کے رکن پارلیمان یان فلپ البریشٹ کے مطابق دہشت گردی کے یہ معانی یا تعریف انتہائی غیر واضع ہیں۔ اسی طرح بائیں بازو کی جماعت ڈی لنکے کی کورنیلیا ایرنسٹ نے اپنے خدشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگر دہشت گردی کی تشہیر یا پرچار کرنے کی بات کی جائے تو نئی قانون سازی میں اس حوالے سے مکمل وضاحت نہیں ہے۔ ان کے بقول اس طرح آزادی اظہار کا حق بھی متاثر ہو سکتا ہے۔

کرسچن ڈیموکریکٹ پارٹی کی مونیکا ہولمائر کہتی ہیں کہ اگر کوئی یہ کہے،’’دہشت گردی بہت کول ہے‘‘ تو یہ ایک احمقانہ بیان سے زیادہ کچھ نہیں، میرے خیال میں اس سلسلے میں وہ پیشہ ور دہشت گردانہ تنظیمیں سزا کی مستحق ہیں، جو نوجوانوں کو متاثر کر کے دہشت گردی کی جانب راغب کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔‘‘ یورپی پارلیمان نے یورپ کی بیرونی سرحدوں پر نگرانی بڑھانے کے حوالے سے بھی نئے ضوابط منظور کیے ہیں۔