1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

سائنس اور ماحول

یورپی ہائی ویز: الیکٹرک کاروں کے چارجنگ اسٹیشن، آغاز اسی سال

موٹر گاڑیاں تیار کرنے والی صنعت کی طرف سے مشترکہ طور پر کئی یورپی ممالک کی شاہراہوں پر الیکٹرک کاروں کو ری چارج کرنے کے لیے چارجنگ اسٹیشنوں کے ایک یورپی نیٹ ورک کی تعمیر پر ابتدائی کام اسی سال شروع کر دیا جائے گا۔

جنوبی جرمنی کے دو بڑے شہروں میونخ اور اشٹٹ گارٹ سے جمعہ تین نومبر کو مو‌صولہ نیوز ایجنسی ڈی پی اے کی رپورٹوں کے مطابق کئی مختلف یورپی ملکوں میں موٹر گاڑیاں تیار کرنے والے صنعتی اداروں نے مشترکہ طور پر یہ منصوبہ بنایا ہے کہ وہ اس براعظم میں الیکٹرک کاروں کے استعمال کو فروغ دینے کے لیے ایک ایسا نیٹ ورک تیار کریں گے، جو بجلی سے چلنے والی کاروں کو ری چارج کرنے کے لیے چارجنگ اسٹیشنوں پر مشتمل ہو گا۔

Niederlande Domburg Elektroautos

ہالینڈ میں بہت سے عوامی مقامات اور کار پارکنگ کی جگہوں پر الیکٹرک کاروں کو ری چارج کرنے کی سہولت موجود ہے

الیکٹرک کاریں بنانے کا منصوبہ، ’اسٹوڈنٹس نظروں میں آ گئے‘

چین: الیکٹرک کار کی قیمت صرف ساڑھے آٹھ ہزار ڈالر

ماحول دوست ’گرین کاریں‘، چین میں مانگ بڑھتی ہوئی

ماہرین کے مطابق یورپی شاہراہوں پر ’ای۔کاروں‘ کے لیے چارجنگ اسٹیشن بھی اتنے ہی ضروری ہیں، جتنے پٹرول یا ڈیزل سے چلنے والی گاڑیوں اور ٹرکوں کے لیے مختلف شہروں اور ہائی ویز پر جگہ جگہ بنائے گئے پٹرول پمپ۔

مجموعی طور پر یورپی آٹوموبائل انڈسٹری نے مختلف ممالک میں موٹر ویز پر ایسے 400 تیز رفتار چارجنگ اسٹیشن قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ان میں سے 20 اولین چارجنگ اسٹیشنوں کی تعمیر کا ابتدائی کام اسی سال شروع کر دیا جائے گا۔

Leipzig elektrischer BMW i3 an Ladesäule

جرمن شہر لائپزگ کے وسطی حصے میں ایک الیکٹرک بی ایم ڈبلیو کو ایک چارجنگ پول پر ری چارج کیا جا رہا ہے

یہ بات کار ساز اداروں بی ایم ڈبلیو، مرسیڈیز گاڑیاں بنانے والے کمپنی ڈائملر، فورڈ، جرمنی سے تعلق رکھنے والے سب سے بڑے یورپی کار ساز ادارے فوکس ویگن اور فوکس ویگن کے ذیلی اداروں آؤڈی اور پورشے کی طرف سے تین نومبر کو ایک مشترکہ بیان میں بتائی گئی۔

حکومتی مدد سے بھارت میں گرین اور سستی کاریں

بجلی سے چلنے والی کاروں پر جرمنی بھر کا آزمائشی سفر

اس بارے میں تفصیلات جرمن شہروں اشٹٹ گارٹ اور میونخ سے اس لیے آئیں کہ مرسیڈیز گاڑیاں بنانے والے کمپنی ڈائلمر کا ہیڈکوارٹر اشٹٹ گارٹ میں اور بی ایم ڈبلیو کے صدر دفاتر میونخ میں ہیں۔ اس بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس سال جن بیس چارجنگ اسٹیشنوں کی تعمیر کا کام شروع کر دیا جائے گا، وہ جرمنی، ناروے اور آسٹریا کی مختلف ہائی ویز اور اہم موٹر وے کراسنگز پر بنائے جائیں گے۔

اس کے بعد اگلے سال ایسے مزید 80 چارجنگ اسٹیشن قائم کیے جائیں گے، جن کے بعد یہ تعداد 100 ہو جائے گی۔

اسی طرح سن 2020ء تک ایسے الیکٹرک چارجنگ اسٹیشنوں کی مجموعی تعداد بڑھا کر 400 کر دی جائے گی۔

قابل ذکر بات یہ ہے کہ یہ تمام الیکٹرک اسٹیشن ایک ایسی کمپنی تیار کرے گی، جو خاص اسی مقصد کے لیے قائم کی گئی ہے۔

اس کمپنی کا نام ’ایئونیٹی‘ (Ionity) ہے، جس کا صدر دفتر بھی میونخ ہی میں ہے۔ یہ کمپنی چاروں بڑے کار ساز اداروں بی ایم ڈبلیو، ڈائملر، فورڈ اور فوکس ویگن نے مل کر بنائی ہے، جس میں ان کا فی کس حصہ پچیس فیصد ہے۔

یہ نہیں بتایا گیا کہ اس منصوبے پر کل کتنی لاگت آئے گی لیکن یہ واضح کر دیا گیا ہے کہ کوشش یہ ہو گی کہ ایسے تمام الیکٹرک کار چارجنگ اسٹیشن ایک دوسرے سے اوسطاﹰ 120  کلومیٹر کے فاصلے پر قائم کیے جائیں۔ ان میں سے ہر اسٹیشن پر ایسے بہت سے چارجنگ پول ہوں گے، جن پر لگے پلگوں سے، مثال کے طور پر کسی عام موبائل فون کی طرح، الیکٹرک کاروں کو ری چارج کیا جا سکے گا۔

ویڈیو دیکھیے 04:33

دنیا کی انتہائی نایاب اور مہنگی ترین کاریں

DW.COM

Audios and videos on the topic