1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

یورپی کمیشن کلوننگ پر عارضی پابندی کا خواہاں

کلون کئے گئے ہوئے جانوروں کے حوالے سے پورپی یونین میں مختلف سطحوں پر بحث جاری ہے۔ ان میں سے ایک کلون شدہ جانوروں سے حاصل ہونے والی کھانے پینے کی اشیاء پر پابندی بھی ہے۔

default

'ڈالی' دنیا کی پہلی کلون کی جانے والی بھیڑ

یورپی کمیشن چاہتا ہے کہ ایسی اشیاء پر پابندی عائد کی جائے، جو کلون شدہ جانوروں سے حاصل ہوتی ہیں۔ اسی تناظر میں یورپی کمیشن کے سرکردہ نمائندے اسی ہفتےکلون کئے ہوئے جانوروں سے حاصل شدہ کھانے پینے کی اشیا پر یورپی یونین میں پابندی عائد کرنے کے حوالے سے سفارشات پیش کریں گے۔کلوننگ کے بارے میں ابھی بھی بہت سے پہلو غیر واضح ہیں۔ اسی وجہ سے یورپی یونین میں صحت کے امورکے کمشنر ’جان ڈالی‘ کچھ عرصے کے لئے کلوننگ کے عمل پر،کلون کئےگئےجان داروں سے حاصل کردہ کھانے پینے کی اشیا کی تشہیر پر اورکلون کئے گئے جان داروں کی درآمداد پر پابندی عائد کرنےکے حوالے سے کمیشن کے سامنے سفارشات منظوری کے لئے پیش کریں گے۔

Belgien EU Gipfel Flaggen in Brüssel

یورپی یونین کے ممبر مملک کے پرچم

کلوننگ ایک ایسی حالیہ سائنسی جدت ہے، جس کے ذریعےکسی بھی زندہ مخلوق کی حقیقی جینیٹک کاپی بنائی جا سکتی ہے۔ تاہم اس کے نتیجے میں تحفظ خوراک، جانوروں کی فلاح اور متعدد اخلاقی معاملات ابھی تک سوالیہ نشان بننے ہوئے ہیں۔

یورپی کمیشن کے مطابق یہ پابندی پانچ سال کے لئے نافذ کی جائے گی اور اس میں ترامیم بھی کی جاسکتی ہیں۔ اس میں خاص طور پر امریکہ سے درآمد کرنے والی اشیاء کا ذکرکیا گیا ہے۔ امریکہ جانوروں کی کلوننگ اور ان سے کھانے پینے کی اشیاء تیار کرنے میں دنیا بھر میں سب سے زیادہ ترقی یافتہ ملک ہے اور یہ تذکرہ یورپی کمشن کی تیار کردہ رپورٹ میں بھی کیا گیا ہے۔

دنیا کے بیشتر ملکوں میں جانوروں کی کلوننگ کے کامیاب تجربے کئے جا چکے ہیں۔ کلونگ کے ذریعے پہلی پیدائش1996ء میں ڈولی نامی بھیڑ کی تھی۔ اس سے قبل بھی مویشیوں، چوہے اور بھیڑوں کی کلوننگ کے تجربےکئے جاتے رہے ہیں۔ بھیٹرکے علاوہ بکری، گائے اور اونٹ کی کلوننگ بھی کی جا چکی ہے۔ دنیا کےکئی ممالک میں کلون کئے ہوئے جانوروں کا گوشت فروخت کیا جاتا ہے۔ امریکہ میں ایسے گوشت کی فروخت کی عام اجازت ہے۔ یورپی کمیشن کی تیار کردہ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ کلوننگ کے ذریعے کھانے پینے کی اشیا تیار کرنا ارجنٹائن، برازیل اورجاپان میں بھی عام ہوتا جا رہا ہے اور اب چین میں بھی اس کی تیاریاں شروع ہوگئی ہیں۔

رپورٹ: سمن جعفری

ادارت: عدنان اسحاق

DW.COM