1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

’یورپی و ایشیائی رہنماؤں کی اسرائیل پر تنقید‘

یورپی اور ایشیائی رہنماؤں کا دو روزہ خصوصی اجلاس برسلز میں جاری ہے۔ منگل کو اجلاس کے آخری روز ایک مشترکہ اعلامیہ جاری کیا جائے گا، جس کے مسودے میں آباد کاری کے اسرائیلی منصوبے کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔

default

ایشیا یورپ میٹنگ میں شریک عالمی رہنما

ایشیا یورپ میٹنگ (ASEM) کا اعلامیہ منگل کو اجلاس کے اختتام پر جاری کیا جائے گا۔ خبررساں ادارے ڈی پی اے کے مطابق اس اعلامیے کے مسودے میں فلسطینی علاقوں میں آبادکاری کے اسرائیلی منصوبوں کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ اسرائیل نے گزشتہ برس کے اختتام پر آبادکاری کے منصوبوں کو دس ماہ کے لئے معطل کر دیا تھا تاہم عالمی برداری کے دباؤ کے باوجود گزشتہ دِنوں تل ابیب حکام نے اس میں توسیع سے انکارکر دیا۔

جرمن خبررساں ادارے ڈی پی اے نے ایشیا یورپ میٹنگ کے اعلامیے کے مسودے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایشیائی اور یورپی رہنماؤں نے اسرائیل کے اس فیصلے پر دُکھ کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ بین الاقوامی قوانین کے مطابق یہ منصوبے غیرقانونی ہیں۔

اس اجلاس میں جاپان، چین، بھارت، فرانس اور جرمنی سمیت 46 ممالک شامل ہیں۔ اس غیر روایتی اجلاس کا انعقاد پہلی مرتبہ 1996ء میں ہوا تھا ، اب یہ اجلاس ہر دو برس بعد منعقد کیا جاتا ہے۔ اس میں مختلف موضوعات پر بحث ہوتی ہےتاہم اس مرتبہ کا اہم موضوع مالیاتی بحران ہے۔ پیر کو اجلاس کے پہلے دِن اقتصادی اصلاحات پر بھی بات چیت ہوئی۔

اس اجلاس کے آغاز پر سمٹ کے چیئرمین اور یورپی یونین کے صدر ہیرمان فان رومپوئے نے کہا، ’دو روزہ اجلاس میں ہماری تین ترجیحات ہوں گی، ان میں سے پہلی ترجیح عالمی سطح پر اقتصادی اور مالیاتی نظم و نسق ہے۔‘

ایشیا یورپی میٹنگ کا گزشتہ اجلاس اکتوبر 2008ء میں چین کے شہر بیجنگ میں ہوا تھا، اس وقت امریکہ میں سرمایہ کاری کے ادارے لیہمن برادرز کے دیوالیہ ہونے نے عالمی معاشی نظام کو ہلا دیا تھا۔

Asem Gipfel Brüssel 2010

میٹنگ روم کا ایک منظر

اُس موقع پر چین کے وزیر اعظم وین جیاباؤ نے کہا تھا، ’اس اجلاس نے دُنیا کو ایک ٹھوس پیغام دیا کہ ہم سب متحد ہو کر اعتماد کے ساتھ اس چیلنج کا مقابلہ کریں گے۔’

اس مرتبہ برسلز کے اجلاس میں بحران سے نمٹنے کے طریقہ کار سے بڑھ کر بات ہو رہی ہے اور مالیاتی منڈیوں کے لئے اصلاحات کے بھرپور عمل پر زور دیا جا رہا ہے۔ ساتھ ہی عالمی مالیاتی فنڈ (IMF) جیسے اداروں میں اصلاحات کا ذکر بھی کیا جا رہا ہے۔

رپورٹ: ندیم گِل

ادارت: عاطف بلوچ

DW.COM