1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

یورپی وفد کی زمبابوے کے صدر موگابے سے ملاقات

افریقی ملک زمبابوے میں سیاسی کشمکش کے تناظر میں انسانی المیہ پیدا ہو چکا ہے۔ ملکی اقتصادیات کمزور ترین سطح پر ہے۔ افراط زر کی شرح آسمان سے بھی بلند ہے۔ ایسے میں یورپی یونین کے وفد کا دورہ خاصا اہم ہے۔

default

زمبابوے کے صدر موگابے

زمبابوے میں 2002ء کے صداراتی انتخابات میں مغربی ممالک اور خود مختار مبصرین نے بڑے پیمانے پر دھاندلیوں کی نشاندہی کی تھی۔ بے ضابطگیوں کے ان الزمات کے بعد یورپی یونین اور امریکہ نے زمبابوےکے صدر رابرٹ موگابے اور ان کے قریبی رفقاء پر پابندیاں عائد کردی گئیں۔ گزشتہ روز یورپی یونین کے ایک وفد نے زمبابوے کے صدر رابرٹ موگابے سے ملاقات کی، جو گزشتہ سات برسوں کے دوران یورپی یونین اور موگابے کے مابین ہونے والی پہلے براہ راست ملاقات تھی۔

یورپی یونین کے مطابق وہ زمبابوے کی قومی حکومت کی کامیابی کی خواہش مند ہے۔ تاہم ساتھ ہی یورپی وفد نے صدر رابرٹ موگابے سے سیاسی نظام میں مزید اصلاحات کا مطالبہ بھی کیا۔ یورپی وفد کی قیادت یونین کے ترقیاتی امور کے نگران کاریل ڈے گُشت کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ صدر موگابے سے ملاقات مثبت ماحول میں ہوئی۔ وہ مزید کہتے ہیں کہ موجودہ صورتحال میں ہونے والی پیش رفت کو تسلیم کرنا چاہیے۔ تاہم ابھی بھی کچھ حل طلب مسائل ہیں، جن پر کھل کر صدر موگابے سے بات کی گئی ہے۔ یورپی وفد نے زمبابوےکی سالانہ شرح نمو میں تحریک دیکھنے کی خواہش کا بھی اظہار کیا۔

تا ہم گُشت نے وہ ان مسائل کی تفصیلات نہیں بتائیں، جن پر ان کی زمبابوے کے سربراہ مملُکت سے بات ہوئی۔ زمبابوے روانگی سے قبل یورپی وفد کے سربراہ نے دورے کے مثبت نتائج کی امید ظاہر کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ اس سے برسلز اور ہرارے کے درمیان پائی جانے والی سفارتی خلیج کو بھی کم کرنے میں بھی مدد ملے گی۔ کاریل ڈے گشت کے مطابق یورپی یونین سالہاسال سے عائد پابندیوں کے بعد زمبابوےحکومت کے ساتھ مفاہمت اور تعاون کا راستہ ہموار کرنا چاہتی ہے۔ اس سے قبل یورپی یونین اور جنوبی افریقہ نے ایک مشترکہ بیان میں زمبابوے کی حریف جماعتوں سے بہتر حکومت سازی کا مطالبہ کیا تھا۔

Kombo Simbabwe Morgan Tsvangirai und Robert Mugabe

زمبابوے کے صدر موگابے اور وزیر اعظم چوانگیرائی

یورپی مندوبین سے ملاقات سے قبل صدر موگابے نے کہا کہ وہ ان کا کھلے دل سے استقبال کرتے ہیں۔ تاہم یورپی وفد کے زمبابوے پہنچنے سے چند گھنٹے قبل ہی موگابے نے مغربی ممالک کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ مغرب نئے نو آبادیاتی نظام کا احیاء چاہتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ ممالک کبھی بھی زمبابوے کے دوست نہیں ہو سکتے۔ موگابے کا خیال ہے کہ مغرب آج بھی اُن کی زمینوں پر قابض ہونا چاہتا ہے۔ اُنہوں نے پابندیاں کے عائد کئے جانے پر بھی سوال اٹھایا اور اُن کے خیال میں یہ زمبابوے کی عوام کوسزا کے مترادف ہے۔ موگابے نے یہ بھی کہا کہ زمبابوے میں حکومت کو تبدیل کرنےکے حوالے سے عالمی سطح پر کیوں آواز اٹھائی جا رہی ہے؟

تاہم یورپی وفد سے ملاقات کے بعد موگابے کے رویہ میں کافی تبدیلی دیکھی گئی۔ موگابے نے ملاقات کوحوصلہ افزا قرار دیا۔ لیکن دوسری جانب یورپی یونین میں داخل ہونے پر عائد پابندی پر شدید اعتراض کیا۔ یورپی یونین کے وفد نے زمبابوے کے وزیر اعظم مورگن چوانگرائی سےبھی ملاقات کی ہے۔ اس موقع پر صدر اور وزیراعظم نے ملکی حکومت پر 2002 کے متنازعہ صدارتی انتخابات کے بعد سے اب تک عائد بین الاقوامی پابندیاں اٹھانے کی اپیل کی۔