1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

یورپی وزارت خارجہ کا قیام

ہینری کسنجر نے وزیر خارجہ کے طورپر ایک مرتبہ یہ گلہ کیا تھا کہ انہیں اس بات کا پتہ نہیں چلتا کہ یورپ کا ٹیلفون نمبر آخر کیا ہےِ؟

default

کیتھرین ایشٹن

کہنے کا مطلب یہ تھا کہ خارجہ پالیسی کے معاملے میں یورپ میں کوئی بھی ایسا ادارہ نہیں ہے ، جس سے وہ رابطہ کر سکیں۔ لیکن اب ایسا نہیں رہا ۔ ایک سال سے نافذالعمل لزبن ٹریٹی کے تحت سب کجھ بہتر ہو گیا ہے۔ ایک طرف یورپی یونین کے خارجہ اور سلامتی امور کی نگرانی کے لئے ایک خاتون کیتھرین ایشٹن کو مقررکر دیا گیا۔ دوسری جانب یورپی یونین کے رکن ممالک نے متفقہ طور پر ایک دفتر خارجہ کے قیام کا فیصلہ کیا ہے۔

خارجہ پالسیوں میں رکن ممالک کا اثرورسوخ کس قدر ہونا چاہیے؟ وزارت کا نظام کیسے چلایا جائے ؟ وزارت میں زیادہ اہم عہدے کن ممالک کو ملنے چاہیں؟ یہ وہ مسائل ہیں، جن کا ابھی تک یورپی یونین کو سامنا رہا ہے۔ ان تمام تنازعات کے باوجود کیتھرین ایشٹن کا کہنا ہے کہ اس ادارے کے قیام کا بھرپور فائدہ اٹھایا جائے گا۔ وہ کہتی ہیں۔

’’اس وزارت کے قیام سے یورپی یونین کے 27 رکن ملکوں کو مل کر کام کرنے کا موقع ملے گا۔ ہم سب مل کر دنیا کو درپیش اہم چیلنجز کا حل تلاش کریں گے۔ اس وزارت کے قیام کا مقصد یہ نہیں کہ رکن ممالک سے کچھ چھینا جائے بلکہ اس کا مقصد یہ ہے کہ 27 رکن ممالک مل کر کام کریں۔‘‘

Guido Westerwelle auf dem NRW-FDP-Parteitag 2008

جرمن وزیر خارجہ گیڈو ویسٹرویلے

یورپی یونین کی وزارت خارجہ میں سات ہزار افراد کو مستقل طور پر ملازمت فراہم کی جائے گی۔ وزارت خارجہ کا ہیڈ آفس برسلز میں بنایا جائے گا، جبکہ دنیا بھر میں 100 سے زائد سفارت خانے قائم کئے جائیں گے۔ جرمن وزیر خارجہ گیڈو ویسٹر ویلے کا اس وزارت کے قیام کے بارے میں کہنا تھا کہ وزارت کا قیام یورپی سفارتکاری کے لئے ایک نہایت ہی عمدہ خبر ہے۔ ان کا کہنا ہے۔’’ یورپ کے پاس یہ صلاحیت ہونی چاہیے کہ وہ سفارتی سطح پر دنیا کے بحرانوں سے نمٹ سکے۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے لئے یورپی یونین کی وزارت خارجہ کا قیام بہت اہم ہے۔‘‘

یورپی یونین کی وزارت خارجہ میں جرمنی کو اسٹریٹیجک نوعیت کی 2 نہایت اہم پوزیشنز حاصل ہوں گی۔ ماضی میں دو جرمن وزرائے خارجہ کی مشیر کی حیثیت سے کام کرنے والی ہیلگا شمٹ یورپی یونین کی وزارت خارجہ کی قائم مقام جنرل سکریڑی کا عہدہ سنبھالیں گی، جبکہ جرمنی ہی سے تعلق رکھنے والے مارکوس ایڈرر بیجنگ میں یورپی یونین کے خارجہ دفتر کےسربراہ ہوں گے۔

رپورٹ: امتیاز احمد

ادارت: کشور مصطفٰی

DW.COM