1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

فن و ثقافت

یورپی میوزک ایوارڈز، لیڈی گاگا پھر چھا گئیں

اتوار کی شب بلفاسٹ میں منعقد ہوئی ایم ٹی وی یورپ میوزک ایوارڈز کی تقریب میں معروف امریکی سنگر لیڈی گاگا نے چار ایوارڈز حاصل کر کے میوزک میلہ لوٹ لیا۔

default

لیڈی گاگا

اس رنگا رنگ تقریب میں نیویارک سے تعلق رکھنے والی خاتون سنگر لیڈی گاگا کو بہترین سنگر، بہترین سونگ، بہترین ویڈیو اور فین ایوارڈز سے نوازا گیا۔ گزشتہ برس یورپی میوزک ایوارڈز میں انہوں نے تین ایوارڈ اپنے نام کیے تھے۔

اتوار کی شب بہترین سونگ کا ایوارڈ وصول کرتے ہوئے اپنے مداحوں سے مخاطب ہوتے ہوئے پچیس سالہ سنگر نے ان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا، ’میں جب یہ گانا لکھ رہی تھی، تب مجھے احساس تھا کہ یہ میرے لیے انتہائی اہم ہو گا‘۔ خوشی کے آنسوؤں سے بھری آنکھیں لیے لیڈی گاگا نے کہا کہ ان کے تمام مداح ان کے لیے بہت اہم ہیں اور انہی کی محبت کی وجہ سے وہ کامیاب ہو رہی ہیں۔

Flash-Galerie Brit Awards 2011

سترہ سالہ سنگر جسٹن بیبر

لوگوں سے کچھا کھچ بھرے اوڈیسی ایرینا ہال میں تقریب انعامات کے دوران چکا چوند روشنیوں کے بیچ مختلف فنکاروں نے اپنے فن کا مظاہرہ بھی کیا۔ اس شو کی میزبانی مشہور کینیڈین سنگر جسٹن بیبر کی انیس سالہ گرل فرینڈ سلینا گومز نے کی۔ گومز اداکارہ ہونے کے علاوہ سنگر بھی ہیں۔

سترہ سالہ جسٹن بیبر نے بہترین میل سنگر کا ایوارڈ حاصل کیا۔ گزشتہ برس بھی انہوں نے یہ ایوارڈ حاصل کیا تھا تاہم اس مرتبہ لوگوں کی نگاہیں بیبر پر زیادہ لگی ہوئی تھیں کیونکہ حالیہ دنوں میں وہ ایک سیکس اسکینڈل کی زد میں تھے۔ ایک امریکی خاتون نے جسٹن بیبر پر الزام عائد کر رکھا ہے کہ جب بیبر سولہ برس کے تھے تو ان کے ساتھ جنسی تعلقات کے نتیجے میں ان کے ہاں ایک بچہ پیدا ہوا تھا۔ تاہم بیبر ان الزامات کو مسترد کرتے ہیں۔

Flash-Galerie MTV Music Awards 2011

کیٹی پیری یورپی ایوارڈز کے دوران

جسٹن بیبر اور آر اینڈ بی سنگر برونو مارس نے دو دو ایوارڈز حاصل کیے۔ دیگر فنکاروں میں معروف سنگر کیٹی پیری کو بیسٹ ایکٹ، Eminem کو بہترین ہپ ہاپ آرٹسٹ اور لنکن پارک کو بہترین روک میوزک کا ایوارڈ دیا گیا۔ MTV کے ڈیڑھ سو ملین ناظرین ان ایوارڈز کی زیادہ تر کیٹیگریز کے لیے اپنے اپنے پسندیدہ اسٹار سنگرز کے لیے ووٹ ڈالتے ہیں۔

رپورٹ: عاطف بلوچ

ادارت: حماد کیانی

DW.COM

ویب لنکس