1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

یورپی ممالک کو گیس کی فراہمی میں مزید تاخیر

روس اور یورپی یونین کے بعد یوکرائن بھی گیس فراہمی کی نگرانی پر آمادہ ہو گیا تاہم روس نے کہا ہے کہ یوکرائن کی طرف سے نئے معاہدے کی دستخط شدہ کاپی ابھی تک انہیں موصول نہیں ہوئی اس لئے گیس کی سپلائی میں دیر ہو سکتی ہے۔

default

روس اور یورپی یونین کے بعد یوکرائن بھی گیس فراہمی کی نگرانی پر آمادہ ہوا تو یورپی ممالک کو امید ہوئی کہ گیس سپلائی جلد ہی شروع ہو جائے گی تاہم یورپی یونین ، روس اور یوکرائن کے مابین غیرجانبدانہ مبصرین کی تعیناتی کے معاہدے کے طے پا جانے کے بعد بھی گیس سپلائی تعطل کا شکار رہے گی۔ روسی گیس کمپنی گیس پروم نے کہا ہے کہ جب تک یوکرائن کی طرف سے معاہدے کی دستخط شدہ کاپی موصول نہیں ہوتی گیس سپلائی بحال نہیں ہوگی۔

یورپی یونین کے موجودہ صدر ملک چیک جمہوریہ نے امید ظاہر کی تھی کہ اتوار کے دن سے یورپی ممالک کو روسی گیس کی فراہمی دوبارہ شروع ہوسکتی ہے۔ اس سے قبل روسی وزیر اعظم ولادی میر پوتین نے کہا کہ جیسے ہی یہ معائنہ کار تعینات کئے جائیں گے روس گیس کی سپلائی بحال کر دے گا، تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ اگر یوکرائن نےدوبارہ اس گیس کو چوری کرنے کی کوشش کی تو وہ گیس کی سپلائی دوبارہ کاٹ دیں گے۔

Gasstreit Russland Ukraine

روسی وزیراعظم نے کہا ہے کہ جیسے ہی معائنہ کار تعینات کئے جائیں گے ،گیس بحال کر دی جائے گی

یورپی یونین اور روس کے مابین ہونےوالے اس معاہدے کے مطابق غیر جانبدارمبصرین روس سے فراہم کی جانے والی قدرتی گیس کا دباو اور یوکرائن کی پائپ لائنوں کا معائنہ کریں گے اور اس بات کو یقینی بنائے گے کہ روسی گیس یورپی ممالک تک بغیر کسی رکارٹ اور اچھے پریشر کے ساتھ پہنچے۔ اس سے قبل بدھ کے دن روس نے یورپی ملکوں کو گیس کی سپلائی یہ کہہ کر روک دی تھی یوکرائن اس گیس کو چوری کر رہا ہے۔ تاہم یوکرائن نے ایسے الزامات کی ترید کی۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ روس اور یورپی یونین کے مابین اس معاہدے کے طے پا جانے کے باوجود بھی یورپی ممالک میں گیس کی سپلائی پیر سے قبل مشکل ہی نظر آتی ہے۔ ستائیس ممالک پر مشتمل یورپی یونین کی گیس کی ضروریات کا ایک چوتھائی حصّہ روس فراہم کرتا ہے جس کا اسّی فیصد حصّہ براستہ یوکرائن آتا ہے۔

ریاستی ملکیت میں کام کرنے والی روسی کمپنی گیس پروم کی طرف سے گیس کی برآمدات روک دیئے جانے کے بعد یورپی یونین کے رکن اور یونین سے باہر کئی دیگر یورپی ملکوں کو توانائی کے شعبے میں خاص کر سردی کے موجودہ شدید موسم میں انتہائی نوعیت کی مشکلات کا سامنا ہے۔