1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

یورپی ملک ہالینڈ میں افغانستان کانفرنس

افغانستان میں انتہاپسند طالبان کی مزاحمت میں شدت کے حوالے سے امریکی صدر نے حال ہی میں نظر ثانی شدہ پالیسی کا اعلان کیا تھا۔ اکتیس مارچ کی ڈونرکانفرنس میں اِس پالیسی کے لئے حمایت میں توسیع بھی ایک مقصد ہو سکتا ہے۔

default

افغانستان اور ملحقہ خطے کا نقشہ

امریکہ کو یقین ہے کہ ہالینڈ کے شہر دی ہیگ میں ہونے والی اقوام متحدہ کی کانفرنس میں ایران کی شمولیت مثبت اقدامات کی طرف ایک قدم ہو سکتا ہے ۔ اِس مناسبت سے پاکستان اور افغانستان کے لئے خصوصی امریکی ایلچی رچرڈ ہالبروک کا خیال ہے کہ ایران میں سلامتی کی صورت حال میں بہتری کے حوالے سے ہمسایہ ملک خاصے اہم ہیں۔ ان کے علاوہ چین، سعودی عرب ، بھارت اور ایران مل جل کر بھی صورت حال کو بہتر کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔

Obama zu Afghanistan

امریکی صدر اوباما، افغانستان بارے نظرثانی شدہ پالیسی کا اعلان کرتے ہوئے، اُن کے ہمراہ وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن (بائیں ) اور وزیر دفاع رابرٹ گیٹس ہیں۔

نیٹو تنظیم کے سیکریٹری جنرل Jaap de Hoop Scheffer کے مطابق سال رواں کے دوران افغانستان میں جاری مشن کے لئے دو ارب ڈرلر کی ضرورت ہے۔ فائینانشل ٹائمز میں شائع ہونے والے اُن کے بیان کے مطابق دی ہیگ کانفرنس میں اِس مناسبت سے ممبر ملکوں کی جانب سے امدادی رقوم کے وعدے سامنے آ سکتے ہیں۔ کانفرنس کے جن شرکاء سے بڑی رقوم کی توقع ہے اُن میں سعودی عرب، جاپان اور خلیجی ریاستیں نمایاں ہیں۔

Hamid Karzai mit US Flagge und Afghanistan Flagge

افغان صدر اپنے ملک کے جھنڈے کے ہمراہ

دی ہیگ کانفرنس میں شمولیت کا فیصلہ ایران کی جانب سے گزشتہ جمعرات کو سامنے آ یا تھا۔ ابھی یہ واضح نہیں کہ وہاں امریکی اور ایرانی نمائندوں کے درمیان کوئی اتفاقی ملاقات ہو سکتی ہے یا نہیں۔ اِس کے علاوہ ایران کی جانب سے کون شرکت کرے گا یہ بھی ابھی معلُوم نہیں۔

اقوام متحدہ کی جانب سے بلائی گئی کانفرنس میں نوے کے قریب ملک شرکت کر رہے ہیں۔ کانفرنس کےدوران علاقائی تعاون پر خصوصی توجہ مرکوز کی جا ئے گی۔ امریکہ کو امید ہے کہ اِس کانفرنس میں امریکی صدر اوباما کی نظر ثانی شدہ پاک افغان پالیسی کو مزید بین الاقوامی حمایت حاصل ہو گی۔ امریکہ کو خاص طور سے چین، روس، بھارت اور ایران کی جانب سے حمایت کی توقع ہے۔

کانفرنس کی صدارت مشترکہ طور پر اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بانکی مون اور ہالینڈ کے وزیر خارجہ Maxime Verhagen کریں گے۔ امریکی وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن کے علاوہ جرمن وزیر خارجہ بھی کانفرنس میں موجود ہوں گے۔ افغان صدر حامد کرزئی بھی اِس اہم بین الاقوامی کانفرنس میں شرکت کریں گے۔