1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

یورپی ملک مالدووا کے الیکشن میں لبرل قوتیں کامیاب

مشرقی یورپ میں مختلف ملکوں کی سرحدوں میں جکڑے ہوے ملک جمہوریہ مالدووا نے سابقہ سوویت یونین کے خاتمے پر آزادی کا اعلان کیا تھا اب یہ یورپی یونین کی مکمل رکنیت اختیار کرنے کی کوششوں میں ہے۔

default

دارالحکومت کیشیناؤ کے ٹیلی وژن چینلوں سے نشر ہونے والے ایگزٹ نتائج کے مطابق مالدووا میں لبرل فورسز ایک مضبوط بلاک کے طور پر ابھری ہیں۔ کمیونسٹ پارٹی کو چھبیس فی صد کے قریب عوامی ووٹ حاصل ہوئے ہیں۔ لبرل فورسز میں موجودہ وزیر اعظم ولادی میر فیلاٹ کی لبرل ڈیموکریٹک پارٹی کے علاوہ ڈیموکریٹک پارٹی آف مالدوا اور پارلیمنٹ کے سپیکر میخائل گیمپو کی لبرل پارٹی شامل ہے۔ سرکاری نتائج کے بعد 101 کے ایوان میں لبرل اتحاد کے پاس کم از کم 61 نشستیں یقینی طور پر ہوں گی۔

فیلاٹ کی لبرل ڈیموکریٹک پارٹی کو 34 فیصد سے زائد عوامی ووٹ حاصل ہوئے ہیں۔ لبرل اتحاد میں شامل بقیہ دونوں جماعتوں کو پندرہ فیصد سے زائد ووٹ ڈالے گئے ہیں۔

گزشتہ دو سالوں میں یہ تیسرے عام انتخابات ہیں۔ اسے سے پہلے کمیونسٹ

Guido Westerwelle bei Vladimir Filat in Moldawien

جرمن وزیر خارجہ اور مالدووا کے وزیر اعظم: فائل فوٹو

پارٹی حکومت میں تھی۔ یہ انتخابی عمل یقینی طور پر غریب ملک کی معیشت پر بہت بڑے بوجھ ثابت ہو رہے ہیں۔ دستور کے مطابق اگر پارلیمنٹ کسی طور صدر کے انتخاب میں ناکام ہو جاتا ہے تو نئے انتخابات کروانا لازمی ہیں۔ سن 2009 ء کے بعد سے پارلیمنٹ ہر بار صدر کے چناؤ میں ناکام ہو جاتی تھی اور اس طرح اسے تحلیل کردینا پڑتا تھا۔ لبرل جماعتوں کا کمزور اتحاد سن 2009 ء کے متنازعہ الیکشن کےبعد سے حکومت میں موجود تو ہے لیکن کم مینڈیٹ کی وجہ سے اثر انگیز حکومت سے محروم تھا۔

مالدووا یورپ کا غریب ترین ملک تصور کیا جاتا ہے۔ پونے دو سال سے جاری سیاسی عدم استحکام نے کیشیناؤ میں مضبوط حکومت کا قیام خواب بنا کر رکھ دیا تھا۔ اسی باعث ملک میں باقاعدہ صدر موجود نہیں ہے۔ اس الیکشن کے بعد امکانی طور پر پارلیمنٹ اور حکومت سازی کے بعد ایک نئے صدر کا انتخاب ہو سکےگا۔ کمیونسٹ پارٹی مسلسل مغرب نواز صدر کے انتخاب کی راہ میں کھڑی ہو جاتی تھی۔ اب نئے پارلیمان میں ایسا شاید نہیں ہو سکے گا۔

مالدوا کے عام انتخابات میں تقریباً 59 فی صد عوام نے اپنا حق رائے دہی استعمال کیا۔ انتخابی قواعد و ضوابط کے مطابق ووٹروں کی جانب سے اتنی بڑی تعداد میں ووٹ ڈالنا حقیقت میں پارلیمانی الیکشن کو جائز اور کامیاب قرار دینے کی ضمانت فراہم کرتا ہے۔

رپورٹ: عابد حسین

ادارت: شادی خان سیف

DW.COM

ویب لنکس