1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

سائنس اور ماحول

یورپی ماہی گیروں کے لیے بھاری مالی اعانتیں، ماحول کے لیے نقصان دہ

ماحول کے تحفظ کے لیے کام کرنے والے ایک بین الاقوامی غیر سرکاری ادارے نے یورپی یونین کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ ماہی گیروں کو دی جانے والی مالی اعانتوں کی وجہ سے سمندری حیات خطرے میں پڑ گئی ہے۔

default

Oceana کی طرف سے منگل کو جاری کی گئی ایک رپورٹ کے اعداد وشمار کے مطابق سن 2009ء کے دوران یورپی یونین نے ماہی گیروں کو 3.3 بلین یورو کی سبسڈی دی جبکہ اسی برس ماہی گیری کی صنعت کو 6.6 بلین یورو کی کمائی ہوئی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک برس میں جتنی اس صنعت نے کمائی کی، اس کے مقابلے میں یورپی ماہی گیروں کو نصف رقم تک کے برابر مالی اعانت مہیا کی گئی۔

ان اعداد و شمار پر تبصرہ کرتے ہوئے Oceana سے وابستہ کرٹینی ساکائی نے کہا، ’ٹیکس دہندگان کے پیسے سے ماہی گیروں کو مالی اعانتیں دی جا رہی ہیں تاکہ وہ ضرورت سے زیادہ مچھلیاں پکڑ سکیں‘۔

’یورپی یونین اور ماہی گیری کے لیے سبسڈی‘ نامی اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یورپی یونین کی رکن ریاستوں میں سے 13 ممالک کے ماہی گیروں کو سال 2009 کے دوران نہ صرف یورپی یونین بلکہ ان کے اپنے ملکوں کی طرف سے بھی غیر معمولی رعایات دی گئیں۔

Der Kabeljau oft gefischt, jetzt vom Aussterben bedroht

یورپی یونین کے ممالک کو ماہی گیری کے شعبے میں بھاری مالی اعانتیں دی جاتی ہیں

رپورٹ کے مطابق اسپین ماہی گیروں کو سبسڈی دینے والا سب سے بڑا ملک رہا، جس نے اس مد میں 733.9 ملین یورو خرچ کیے۔ اسی طرح فرانس نے 361.9 ملین یورو جبکہ ڈنمارک نے 307.3 ملین یورو کی خطیر رقم ماہی گیروں کو سبسڈی دینے کے لیے خرچ کی۔

 Oceana کی طرف سے جاری کی گئی اس رپورٹ میں کہا گیا ہے، ’یہ انتہائی شرم کی بات ہے کہ اقتصادی لحاظ سے اس مشکل وقت میں حکومتیں ٹیکس دہندگان کی انتہائی محنت سے کمائی ہوئی رقوم کو قدرتی وسائل کو تباہ کرنے کے لیے خرچ کر رہی ہیں‘۔

یورپی یونین کے ماہی گیری کے شعبے کی ترجمان ماریہ دامانکی کے بقول انہوں نے اس حوالے سے جامع اصلاحات تجویز کر رکھی ہیں، جو ممبر ممالک اور یورپی پارلیمان سے منظور ہونا ابھی باقی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ان اصلاحات میں پائیدار ماہی گیری پر توجہ مرکوز کی گئی ہے۔

رپورٹ: عاطف بلوچ

ادارت: مقبول ملک

DW.COM

ویب لنکس