یورپی طاقتیں خود اس براعظم کو عدم استحکام کا شکار بنا رہی ہیں، ماسکو | حالات حاضرہ | DW | 08.12.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

یورپی طاقتیں خود اس براعظم کو عدم استحکام کا شکار بنا رہی ہیں، ماسکو

ماسکو حکومت نے اصرار کیا ہے کہ یورپ کی سلامتی کو روس سے خطرہ نہیں ہے۔ روسی وزیر خارجہ نے البتہ الزام عائد کیا ہے کہ یورپی طاقتیں خود ہی اس براعظم کو عدم استحکام کا شکار بنا رہی ہیں۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی نے روسی وزیر خارجہ سیرگئی لاوروف کے حوالے سے بتایا ہے کہ یورپ کی سلامتی کو روس سے کوئی خطرہ نہیں بلکہ کچھ یورپی ممالک خود ہی اس براعظم کو عدم استحکام کا شکار بنا رہے ہیں۔

حلب کے معاملے پر کیری اور لاوروف میں بات چیت
مہاجرین کے حوالے سے ترکی اور يورپی يونين کی ڈيل: رپورٹ آج متوقع
یوکرائن روس کے خلاف مزید یورپی اقدامات کے لیے سرگرم

ہیمبرگ میں تعاون اور سکیورٹی کی یورپی تنظیم OSCE کی دو روزہ کانفرنس کے پہلے دن بروز جمعرات لاوروف نے کہا ہے کہ تمام فریقین کو یورپ کی موجودہ صورتحال پر تفصیلی غوروخوض کرنا چاہیے تاکہ اندازہ ہو سکے کہ اس خطّے کو درپیش حقیقی مسائل کون سے ہیں۔

سیرگئی لاوروف نے مغربی دفاعی اتحاد نیٹو کی مشرقی یورپ میں مبینہ وسعت پسندانہ حکمت عملی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اطراف کو ’’یورپ کا نقشہ اٹھا کر دیکھنا چاہیے اور پرکھنا چاہیے کہ کون سا مقام کہاں ہے اور اس کا تعلق کس سے ہے‘‘۔  OSCEکے وزرائے خارجہ کے امسالہ اجلاس میں انہوں نے مزید کہا کہ غور و فکر سے معلوم ہو جائے گا کہ روس سے یورپی سلامتی کو کوئی خطرہ نہیں ہے۔

لاوروف کا یہ بھی کہنا تھا کہ مغربی طاقتوں کی طرف سے عراق اور لیبیا میں عسکری مداخلت سے مہاجرین کا بحران پیدا ہوا ہے، جس سے یورپ کی سلامتی کو خطرات لاحق ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا، ’’مہاجرین کے بحران کی وجوہات کیا ہیں، اس بارے میں آزادانہ بحث ہونا چاہیے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ اس کی بڑی وجہ مشرق وسطیٰ کے ممالک کے اندورونی معاملات میں مغربی طاقتوں کی عسکری مداخلت ہے۔

یوکرائن کے تنازعے پر گفتگو کرتے ہوئے روسی وزیر ِخارجہ نے کہا کہ کییف حکومت امن عمل کو مسلسل سبوتاژ کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ یوکرائن کی حکومت کو ماسکو نواز باغیوں سے براہ راست مذاکرات کا سلسلہ شروع کر دینا چاہیے تاکہ یہ معاملہ حل ہو سکے۔ اس اجلاس میں یوکرائن کی وزیر خارجہ نے البتہ اس بحران کا ذمہ دار کریملن کو قرار دیا اور مطالبہ کیا کہ مشرقی یوکرائن میں  OSCE  کے سپاہیوں کی تعیناتی کی جائے تاکہ وہ ’روسی جارحیت‘ سے نمٹا جا سکے۔

آٹھ دسمبر بروز جمعرات سے جرمن شہر ہیمبرگ میں او ایس سی ای کا دو روزہ وزارتی اجلاس منعقد ہو رہا ہے۔ اس موقع پر سخت حفاظتی انتظامات کے تحت پولیس کے دَس ہزار سے زیادہ اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔ کانفرنس کے آغاز سے پہلے ہیمبرگ میں ہی امریکی وزیر خارجہ جان کیری اور اُن کے جرمن ہم منصب فرانک والٹر شٹائن مائر نے الگ الگ ملاقاتوں میں روسی وزیر خارجہ سیرگئی لاوروف کے ساتھ شام کی صورتِ حال پر تبادلہٴ خیال کیا۔

جان کیری نے جمعرات کے دن  لاوروف کے ساتھ ملاقات کے تناظر میں کہا کہ وہ حلب کے حوالے سے کسی اتفاقِ رائے پر پہنچنے کے حوالے سے پُر امید ہیں۔ شٹائن مائر نے بدھ کو  لاوروف کے ساتھ بات چیت میں  شام میں فوری جنگ بندی کے لیے زور دینے کے ساتھ ساتھ یہ بھی کہا تھا کہ ماسکو حکومت کو ساتھی ملکوں کے ساتھ مل کر یورپ میں بھی کشیدگی کو بڑھنے سے روکنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ اس اجلاس میں یوکرائن کے تنازعے، اسلحے پر کنٹرول کے مذاکرات کے ایک نئے راؤنڈ اور او ایس سی ای کے ممالک کے مابین اقتصادی اشتراکِ عمل پر بھی بات چیت کی جا رہی ہے۔

DW.COM