1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

یورپی شہریوں کو غیر محفوظ ہو جانے کا خطرہ، ایردوآن کی تنبیہ

یورپی یونین اور ترکی کے مابین لفظوں کی جنگ شدت اختیار کرتی جا رہی ہے اور بظاہر اس میں کمی کا کوئی امکان دکھائی نہیں دے رہا۔ اسی دوران ترک صدر ایردوآن نے تنبیہ کی ہے کہ ’یورپی شہریوں کے غیر محفوط ہو جانے کا خطرہ‘ ہے۔

ترک صدر رجب طیب ایردوآن نے یورپی یونین کے رہنماؤں کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر یونین نے اسی طرح جھگڑے فساد کو ہوا دی، تو یہ خطرہ پیدا ہو جائے گا کہ یورپی شہری دنیا کی کسی بھی شاہراہ پر آزادانہ گھوم پھر نہیں سکیں گے۔ آج بدھ کو ترک صدر ایردوآن نے انقرہ میں اپنے ایک خطاب میں کہا، ’’اگر آپ (یورپی یونین) نے اپنا یہی رویہ برقرار رکھا تو کل دنیا کے کسی بھی حصے میں کوئی بھی یورپی یا مغربی شہری پر امن اور محفوظ انداز میں چہل قدمی نہیں کر سکے گا۔‘‘

ایردوآن نے اپنے اس بیان کی وضاحت تو نہیں کی تاہم مختلف نیوز ایجنسیوں کے مطابق وہ یہ کہتے دکھائی دیے کہ یورپی باشندوں کے ساتھ ممکنہ طور پر اسی طرح کا برتاؤ دیکھنے میں آ سکتا ہے، جیسا براعظم یورپ میں رہنے والے ترک اور مسلم شہریوں کے ساتھ دیکھنے میں آ رہا ہے۔

Türkei Großer Basar in Istanbul Polizei

اگر یونین نے اسی طرح جھگڑے فساد کو ہوا دی، تو یہ خطرہ پیدا ہو جائے گا کہ یورپی شہری دنیا کی کسی بھی شاہراہ پر آزادانہ گھوم پھر نہیں سکیں گے، ایردوآن

ترک صدر ایردوآن نے یورپی یونین کو خبردار کرتے ہوئے مزید کہا کہ ترکی ایسا ملک نہیں جسے ’دبایا جائے، جسے ستایا جائے، جس کے وقار کے ساتھ کھیلا جائے، جس کے وزارء کو دروازے پر کھڑا کے انتظار کرایا جائے یا جس کے شہریوں کو زمین پر دھکیلا جائے‘۔ ان کے بقول دنیا یورپ کے اقدامات کو بہت غور سے دیکھ رہی ہے، ’’ہم بطور ترک شہری یورپ سے جمہوریت، انسانی حقوق اور دیگر آزادیوں کا احترام کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں۔‘‘

آزادی اظہار کی حامی تنظیموں کا الزام ہے کہ انقرہ حکومت نے کم از کم 149 صحافیوں کو قید میں رکھا ہوا ہے اور یورپی رہنماؤں کی جانب سے بار بار آزادی اظہار کا احترام کرنے کی بات کی جاتی ہے۔ اس موقع پر ایردوآن نے کسی بھی ’حقیقی صحافی‘ کے جیل میں رکھے جانے کے دعووں کو مسترد کر دیا، ’’وہاں(جیل) میں سب قید ہیں، قاتلوں سے لے کر چوروں تک، بچوں کے ساتھ زیادتی کرنے والوں سے لے کر دھوکے بازوں تک۔ لیکن اس فہرست میں کوئی صحافی شامل نہیں ہیں۔‘‘

ترکی میں آئین میں ترامیم کے لیے سولہ اپریل کو ایک ریفرنڈم کرایا جا رہا ہے۔ اس ریفرنڈم کی کامیابی کی صورت میں اس ملک میں پارلیمانی جمہوری نظام صدارتی جمہوری نظام میں بدل دیا جائے گا اور ایردوآن اصولاﹰ 2029 تک ملک کے صدر رہ سکیں گے۔

ملتے جلتے مندرجات