1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

یورپی سرحدوں کے تحفظ کے لیے مزید باڑ کی ضرورت ہے، جرمن سیاست دان

ایک اہم جرمن سیاست دان نے کہا ہے کہ یورپی سرحدوں کے تحفظ کے لیے مزید خاردار تاریں نصب کرنے کی ضرورت ہیں۔ اس بیان سے مہاجرین کے حوالے سے سخت ہوتے لہجے کا اندازہ بھی لگایا جا سکتا ہے۔

چانسلر انگیلا میرکل کی قدامت پسند جماعت سی ڈی یو کی باویریا صوبے میں سسٹر پارٹی سی ایس یو کے انتہائی بااثر سیاست دان من فریڈ ویبر کے مطابق، ’یورپی سرحدوں کے تحفظ کے لیے مزید باڑ کی ضرورت ہے۔‘ انہوں نے یہ بات پاساؤر نوئے پریسے اخبار سے بات چیت میں کہی۔

ویبر یورپی پارلیمان میں سینٹر رائٹ جماعت پیپلز پارٹی کے سربراہ بھی ہیں۔ ان کا کہنا تھا، ’یہ نہیں ہو سکتا کہ لاکھوں افراد یورپی سرحدوں کو بغیر جانچ پڑتال کے پھلانگتے پھریں اور ان کو روکنے والا کوئی نہ ہو۔‘

Ungarn baut Zaun zu Kroatien

ہنگری نے بلقان خطے سے لگنے والی اپنی سرحدیں بند کر دی ہیں

ویبر رواں ہفتے جنوبی جرمن صوبے باویرا میں کرسچن سوشل یونین کی ایک کانفرنس میں بھی شریک ہو رہے ہیں، جس میں ہنگری کے وزیراعظم وکٹور اوربان بھی موجود ہوں گے۔ ویبر نے مہاجرین کا راستہ روکنے کے حوالے سے اوربان کے اقدامات کا دفاع بھی کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ اقدامات یورپی قوانین سے مکمل مطابقت رکھتے ہیں۔

ہنگری کے وزیراعظم اوربان نے بلقان خطے کے ساتھ لگنے والی اپنی ملکی سرحد پر تیزدھار دھات کی حامل ایک طویل باڑ نصب کر دی تھی، جس کے ذریعے انہوں نے سیربیا کے ساتھ لگنے والی اپنی 175 کلومیٹر طویل سرحد کو مہاجرین کے لیے بند کر دیا ہے۔

ویبر نے کہا کہ اس سلسلے میں متعدد افراد ہنگری پر تنقید تو کر رہے ہیں مگر ان کے پاس اس مسئلے کا کوئی ٹھوس حل نہیں ہے کہ ایسے صورت حال میں ہنگری اور کیا کر سکتا تھا۔