1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

یورپی سربراہی اجلاس پر تنقید بھی

برسلز میں آج یورپی یونین کا سربراہی اجلاس ہو رہا ہے۔ تین دنوں کے دوران ہونے والے اس دوسرے سربراہی اجلاس میں یورپی مالیاتی فنڈ اور یورو بحران کے حوالے سے اہم فیصلے متوقع ہیں۔

default

اگر یورپی سربراہان اس بارے میں آج کسی حتمی نتیجے پر نہیں پہنچ سکے تو مالی بحران مزید سنگین ہونے کا امکان بڑھ جائے گا۔ اسی وجہ سے برسلز میں ماحول انتہائی کشیدہ ہے۔ گزشتہ اتوار کو یورپی سربراہی اجلاس کے پہلے دور کے بعد سے یورپی پارلیمنٹ کے ارکان ان کوششوں میں ہی لگے ہوئے تھے کو آج اس دوسرے اجلاس کو کس طرح سے کامیاب بنایا جائے۔ اسی طرح یورپی یونین میں شامل تمام ملکوں کے سربراہاں مملکت و حکومت بھی اپنے تیئں کوششں کرتے رہے کہ بدھ کے روز برسلز میں کسی طور کوئی فیصلہ کیا جائے۔ لیکن سب کے ذہنوں میں ایک ہی خدشہ گردش کر رہا ہے کہ اگر یہ اجلاس بے نتیجہ ثابت ہوا تو کیا ہو گا؟

یورپی پارلیمان میں سوشلسٹ پارٹیوں کے دھڑے کے سربراہ مارٹن شُلز کا خیال ہی کہ بہت سے یورپی ممالک نے مالیاتی بحران کو حل کرنے کے لیے سنیجدگی سے اقدامات ہی نہیں کئے۔ انہوں نے کہا ’’یورپی سطح پر گزشتہ ہفتوں بلکہ پچھلے کئی دنوں کے دوران ہم نے بہت کچھ دیکھا۔ فیصلے کیے گئے لیکن ان پر عمل نہیں کیا گیا، نئی تجاویز پیش کی گئیں، ان پر بحث کی گئی لیکن انہیں عملی شکل دینے کی کوشش نہیں کی گئی۔ پھر ایک اور ہنگامی اجلاس بلا لیا گیا۔ میرے خیال میں ہنگامی اجلاسوں کے حوالوں سے پہلے ہی سے ایک فہرست تیار کر لی گئی ہے‘‘۔

ایک ہی موضوع پر اتنے قلیل وقفے کے دوران دو سربراہی اجلاسوں کی وجہ سے یورپی یونین پر سخت تنقید کی گئی۔ یورپی مالیاتی امدادی فنڈ کے معاملے پر فرانس اور جرمنی کی حکومتوں کے مابین ابھی تک اتفاق رائے نہیں ہو سکا ہے۔ صرف یہی نہیں بلکہ مقامی سطح پر بھی مختلف ممالک میں یورو بحران کے حوالے سے مختلف جماعتوں کے درمیان اختلاف رائے پایا جاتا ہے۔

یورپی پارلیمان میں گرین پارٹی سے تعلق رکھنے والی ربیکا ہارمس نے برلن حکومت کے طریقہ کار پر تنقید کی۔ ان کے بقول جرمن چانسلر انگیلا میرکل کا شمار ان سربراہان میں نہیں ہوتا، جو یہ کہہ سکتے ہوں کہ بحرانی حالت میں ہمیں مشکل فیصلے کرنے ہوں گے بھلے اگلے انتخابات میں شکست کا ہی سامنا کیوں نہ کرنا پڑے۔ حکومت ان بحرانی حالات میں صحیح فیصلے نہیں کر پائی۔

اس دوران جرمن پارلیمان نے واضح اکثریت سے یورپی مالیاتی امداد فنڈ کی توسیع کے حق میں ووٹ دیا ہے۔ اس کے حق میں 503 ووٹ آئے جبکہ صرف 89 ارکان نے اس کی مخالفت کی۔

رپورٹ: کرسٹوف ہازلباخ

ترجمہ: عدنان اسحاق

ادارت: عابد حسین

DW.COM