1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

یورپی رہنما برطانوی عوام کو سزا دینے کی کوشش نہ کریں، مے

برطانوی وزیر اعظم ٹیریزا مے نے آج لندن میں اپنی ایک پالیسی تقریر میں کہا کہ برطانیہ یورپی یونین کی داخلی منڈی سے نکل جائے گا لیکن اُن کی خواہش ہے کہ وہ یورپی یونین کے ساتھ آزادانہ تجارت کا ایک جامع سمجھوتہ طے کریں۔

برطانوی وزیر اعظم کے اس اعلان کے ساتھ ہی ان افواہوں کا بھی خاتمہ ہو گیا ہے، جن کے مطابق یہ کہا جا رہا تھا کہ برطانیہ مکمل طور پر یورپی یونین سے علیحدہ نہیں ہو گا بلکہ یہ صرف ’سافٹ بریگزٹ‘ ہو گا۔ ٹریزا مے نے کہا کہ برطانیہ نہ تو محصولات کی یونین کی موجودہ شکل میں مزید اُس کا رکن رہنا چاہتا ہے اور نہ ہی یورپی عدالت کے فیصلوں کے آگے مزید سرِ تسلیم خم کرنا چاہتا ہے۔

 مے کے مطابق اب برطانیہ یونین کی جزوی یا ایسوسی ایٹ رکنیت کا بھی خواہاں نہیں۔ مے مارچ کے اواخر تک یونین چھوڑنے کا باقاعدہ اعلان کر دیں گی، جس کے بعد یونین سے علیحدگی کی شرائط پر دو سالہ مذاکرات کا آغاز ہو جائے گا۔ مے کے مطابق برطانیہ کو یورپی یونین کے ساتھ بریگزٹ کا  کوئی ایسا سمجھوتہ نہیں کرنا چاہیے، جس میں لندن کے مفادات کو نقصان پہنچتا ہو۔ 

مے نے 27 رکنی یورپی بلاک کے رہنماؤں کو خبردار کیا کہ برطانوی شہریوں کو بریگزٹ کے حق میں ووٹ دینے پر سزا دینے کی کوشش نہ کی جائے۔ دریں اثناء بریگزٹ کے حوالے سے یورپی یونین کے چیف مذاکرات کار نے کہا ہے کہ وہ مستقبل میں بھی برطانیہ کے ساتھ بہتر تعلقات رکھنا چاہتے ہیں اور یورپی یونین سے اخراج کا یہ عمل بآسانی مکمل کر لیں گے۔ تاہم یورپی پارلیمناٹ کے بریگزٹ سے متعلقہ مذاکرات کار کے مطابق مے کو یہ گمان نہیں کرنا چاہیے کہ یونین چھوڑ کر بھی وہ اس کی سہولتوں سے فائدے اٹھا سکیں گی۔

کہا کہ ایسا کوئی بُرا بریگزٹ معاہدہ کرنے سے بہتر ہو گا کہ اس سلسلے میں سرے سے کوئی سمجھوتہ کیا ہی نہ جائے۔

مے کی جانب سے یورپی یونین کی سنگل مارکیٹ سے نکل جانے کے اعلان کے بعد جرمن چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری نے کہا ہے کہ اب حالات مزید واضح ہو گئے ہیں اور جرمن کمپنیاں برطانیہ سے اپنا سرمایہ واپس لانے کا عمل شروع کر دیں گی۔ جرمن چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے تجارتی شعبے کے سربراہ فولکر ٹریئر کا کہنا تھا، ’’اب برطانیہ میں جرمن کمپنیاں کم سرمایہ کاری کریں گی۔‘‘

برطانوی وزیراعظم کی اس تقریر کا شدت سے انتظار کیا جا رہا تھا اور یہ امید کی جا رہی تھی کہ برطانیہ آزاد تجارتی معاہدے کرتے ہوئے بہت جلد بین الاقوامی معیشت میں عالمی کھلاڑی کے طور پر ابھرے گا۔ یہ توقع بھی کی جا رہی ہے کہ اس تقریر کے بعد برطانوی پاؤنڈ کی قدر پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔

امریکی نو منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ بریگزٹ برطانیہ کے لیے بہت اچھا قدم ثابت ہو گا اور دیگر یورپی ریاستوں کو بھی برطانیہ کے نقش قدم پر چلنا چاہیے۔ انہوں نے وعدہ کیا تھا کہ وہ برطانیہ کے ساتھ نرم شرائط پر دو طرفہ تجارتی معاہدے کریں گے۔

DW.COM