1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

یورپی رہنماؤں کے مابین تحفظ ماحولیات پر سمجھوتہ

سمجھوتے کے باوجود مغربی اورمشرقی یورپی ممالک اس بات پر اتفاق نہ کر سکے کہ ترقی پذیر ممالک کی مدد کے لئے کیا طریقہ اختیار کیا جائے۔ یورپی یونین کی آئندہ سمٹ میں اس حوالے سے حتمی فیصلہ متوقع ہے۔

default

یورپی یونین کے موجودہ صدر ملک سویڈن کےوزیراعظم فریڈرک رائن فیلڈ اور یورپی کمیشن کے صدر باروسو

بیلجیئم کےدارالحکومت میں یونین کی سربراہی کانفرنس کے دوسرے اور آخری دن شرکاء کے مابین آج متعدد موضوعات پر تفصیلی بحث دیکھنے میں آئی۔ ایک موضوع یہ تھا کہ معاہدہ لزبن کے نفاذ کے بعد یونین کی کونسل کے صدر کا جو مستقل عہدہ وجود میں آئے گا، اُس پر کس طرح کی شخصیت منتخب کی جائے۔ برطانوی وزیراعظم گورڈن براؤن کی رائے یہ تھی، اورکئی ملک اِس کے حامی بھی تھے، کہ اس عہدے پر سابق برطانوی وزیراعظم ٹونی بلیئر کو منتخب کیا جائے۔

اس تجویز کی کئی ملکوں نے مخالفت بھی کی۔ وجہ یہ خواہش تھی کہ یونین کی کونسل کا صدر کسی ایسے رکن ملک کے سیاستدان کو چنا جائے جو یورپی مالیاتی اتحاد اورآزاد سرحدی معاہدے میں بھی شامل ہو۔ ٹونی بلیئر کی کم حمایت اس وجہ سے کی گئی کہ برطانیہ نہ تو یورو زون میں شامل ہے اور نہ ہی یونین کے شینگن معاہدے میں۔

اس حوالے سے ہسپانوی وزیر اعظم خوسے روڈرِیگیز ساپاتیرو نے کہا: "میں چاہتا ہوں کہ یورپی یونین کی کونسل کی صدارت ایک ایسا حقیقی یورپی رہنما کرے، جو یونین کو مضبوط بنانے سے متعلق اصولوں کی اچھی طرح وضاحت بھی کر سکے۔"

EU-Gipfel in Brüssel

یونین کی برسلز میں جاری مشاورت کا مقصد یہ ہے کہ ڈنمارک میں عالمی ماحولیاتی کانفرنس کامیاب رہے۔

جمعہ کے روز جو دوسرا اہم ترین موضوع برسلز میں یورپی سربراہان کے مابین بھر پور بحث کی وجہ بنا، وہ یہ تھا کہ عالمی ماحول کے تحفظ کے لئے یونین ترقی پذیر ملکوں کی کس طرح اور کیا مدد کرسکتی ہیں۔ برسلز کانفرنس میں یورپی ملک چاہتے ہیں کہ دسمبر میں ڈنمارک کے دارالحکومت کوپن ہیگن میں اقوام متحدہ کی ماحولیاتی کانفرنس سے پہلے ہی یہ اتفاق رائے ہو جائے کہ اس بارے میں یورپی ملکوں کا مستقبل کا لائحہ عمل کیا ہوگا۔

برسلز سے موصولہ رپورٹوں کے مطابق یونین کی ریاستوں کے مابین یہ بات تقریبا طے پا گئی ہے کہ تحفظ ماحول کے لئے کوپن ہیگن کانفرنس میں یورپی یونین، ترقی پذیر ملکوں کومجموعی طور پر قریب سو بلین یورو مہیا کرنے کا اعلان کرے گی۔ ابھی تک یہ سوچ اس لئے حتمی نہیں کہ اس پر یونین کے رکن چھوٹے، خاص کر مشرقی یورپی ملکوں کو اعتراض ہے۔ یہ ملک مطالبہ کر رہے ہیں کہ یہ بھی دیکھا جائے کہ کون سی ریاست اس مد میں کتنے مالی وسائل مہیا کر سکتی ہے۔

یونین کی برسلز میں جاری مشاورت کا مقصد یہ ہے کہ ڈنمارک میں عالمی ماحولیاتی کانفرنس کامیاب رہے۔ اس بارے میں جرمن چانسلر کا مئوقف بھی بڑا واضح ہے: "میں چاہتی ہوں کہ کوپن ہیگن کانفرسن کامیاب رہے۔ اسی لئے یورپی یونین وہاں اپنی سوچ کی کھل کر وضاحت کرے گی۔"

رپورٹ: عصمت جبیں

ادارت: مقبول ملک