1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

یورپی رہنماؤں کی توجہ مہاجرین کی آمد روکنے اور ملک بدریوں پر

یورپی یونین کے رہنماؤں کی دو روزہ سمٹ میں پناہ کے یورپی نظام میں اصلاحات پر بھی بات چیت کی جانا تھی تاہم ایسا نہ ہو سکا اور شرکاء کی ساری توجہ مہاجرین کی آمد کو روکنے اور ان کی ملک بدریوں پر مرکوز رہی۔

یورپی یونین کی کونسل کے سربراہ ڈونلڈ ٹسک نے برسلز میں ہونے والی اس سمٹ کے بعد کہا کہ مہاجرین کو سمندری راستوں کے ذریعے یورپ کا رخ کرنے سے روکنے کے لیے ان تارکین وطن کے آبائی ممالک اور بحیرہ روم کے پار واقع لیبیا جیسی ریاستوں سے تعاون میں اضافے کی اشد ضرورت ہے۔

’مہاجرین چلا چلا کر کہتے رہے کہ آکسیجن ختم ہو رہی ہے‘

جرمنی میں نئی زندگی (2): کسے پناہ ملے گی اور کسے جانا ہو گا؟

ویڈیو دیکھیے 03:00

امیدوں کے سفر کی منزل، عمر بھر کے پچھتاوے

یورپی رہنماؤں کی اس سمٹ میں یونین کے رکن ممالک کے مابین کئی امور پر اختلاف رائے بھی نمایاں رہے، جن میں یورپ میں مہاجرین کی منصفانہ تقسیم کا معاملہ سرفہرست رہا۔ جرمنی میں اس سال عام انتخابات ہو رہے ہیں اور شاید اسی وجہ سے جرمن رہنما مہاجرین سے متعلق اختلافی موضوعات پر اپنے موقف کے لیے تائید حاصل کرنے کی نمایاں کوششیں کرنے سے اجتناب کرتے رہے۔

وفاقی جرمن وزیر داخلہ سمٹ سے پہلے ہی اعلان کر چکے تھے کہ مہاجرین کے بحران سے نمٹنے کے سلسلے میں جن امور پر یونین میں اختلاف پایا جاتا ہے، اس سمٹ میں ان کو فی الحال نظر انداز کیا جائے گا اور توجہ ان معاملات پر مرکوز کی جائے گی، جن پر قریب سبھی رکن ممالک میں اتفاق پایا جاتا ہے۔

اس سربراہی کانفرنس کے دوران تارکین وطن کی واپسی میں تعاون نہ کرنے والے ممالک کے لیے ویزا پالیسی سخت کرنے پر اتفاق کیا گیا۔ علاوہ ازیں مہاجرین کی آمد روکنے کے لیے یورپ کی بیرونی سرحدوں کی نگرانی مزید سخت کرنے پر بھی اتفاق ہو گیا۔ جرمن چانسلر انگیلا میرکل کا کہنا تھا کہ اقتصادی تارکین وطن کی واپسی یقینی بنانے کی کوششوں میں افریقی ممالک اور یورپی یونین کے مابین تجارتی معاہدے بھی کیے جانا چاہییں۔

مہاجرین سے متعلق مشترکہ یورپی پالیسی اور یورپ میں مہاجرین کی تقسیم کے موضوع پر اتفاق رائے نہ ہونے کے باوجود انگیلا میرکل نے فرانسیسی صدر ماکروں کے ہمراہ ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا، ’’میں اس معاملے پر اظہار رائے کرتی رہوں گی۔‘‘

ماکروں نے بھی اس بارے میں کھل کر بات کرتے ہوئے کہا، ’’ہمیں ہر صورت مہاجرین کو پناہ دینا ہے، کیوں کہ یہ ہماری روایت بھی ہے اور ہمارے لیے اعزاز کی بات بھی۔ ہمیں ان ممالک کے ساتھ یک جہتی دکھانے کی بھی ضرورت ہے جو مہاجرین کا زیادہ بوجھ برداشت کرنے پر مجبور ہیں۔‘‘

جرمنی: مہاجرین کی ملک بدری کے لیے خصوصی اہلکار درکار

پاکستانی تارکین وطن کی واپسی، یورپی یونین کی مشترکہ کارروائی

DW.COM

Audios and videos on the topic