1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

سائنس اور ماحول

یورپی خلائی دوربین ایک مرتبہ پھر کارآمد

یورپ کی کئی بلین یورو مالیت کی خلائی دوربین ہیرشیل کے ناکارہ پرزوں کو قابل استعمال بنا کر ایک مرتبہ پھر اس دوربین کو مکمل طور پر کارآمد بنا دیا گیا ہے۔

default

خلا میں چھوڑے جانے کے صرف تین ماہ بعد ہی پیش آنے والے غیر متوقع حالات کے سبب اس دوربین کے ہائی فائی سپیکٹرومیٹر نے کام کرنا بند کر دیا تھا۔ ہائی فائی کے آف ہوتے ہی اس دوربین کے کئی حصوں کے ساتھ زمینی رابطہ کمزور ہوگیا تھا۔ دوربین کی مرمت کا کام ہالینڈ کی قیادت میں کام کرنے والے ایک گروپ نے انجام دیا اور اس ہائی فائی کو دوبارہ آن لائن لانے کے لئے خلائی تابکاری کا استعمال کیا گیا۔

Europäische Super-Teleskope vor Weltraumstart

گزشتہ برس اس دوربین کو زمین سے خلا میں بھیجا گیا تھا

خلانوردوں کے مطابق ہائی فائی کے دوبارہ آن ہوتے ہی دوربین سے مکمل طور پر رابطہ بحال ہوگیا ہے۔ یورپی سائنسدانوں کا خیال ہے کہ اس مرمت کے بعد دوربین کو درپیش حالات سے مکمل طور پر آگہی حاصل کر لی گئی ہے تاکہ دوبارہ ایسی صورتحال پیدا نہ ہو۔

دوربین سے رابطہ بحال کرنے کے مشن میں تیس انجینیئرز نے حصہ لیا۔ سرون نیدرلینڈ انسٹیٹیوٹ فار سپیس ریسرچ سے وابستہ ہائی فائی ٹیکنالوجی کے محقق ڈاکٹر فرانک ہیلمچ سائنسدانوں کے اس گروپ کی قیادت کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ اس دوربین کی مرمت کا کام انتہائی دلچسپ رہا۔ ’’میں نے ٹی وی چینلز پر جرائم اور ان کی تفتیش سے متلعق پروگرامز بہت زیادہ نہیں دیکھے مگر خلا میں ہم نے تفتیش کر کے مسئلے کا حل تلاش کر لیا اور پھر وہ غیر معمولی اقدامات کر ڈالے کہ آئندہ دوبارہ کبھی ایسا نہ ہو سکے۔‘‘

یورپی خلائی ایجنسی ESA کی جانب سے یہ دوربین گزشتہ برس مئی میں زمین سے خلا میں بھیجی گئی تھی۔ اس دوربین کا اصل کام کائناتی وقت کے ساتھ ساتھ ستاروں اور کہکشاؤں میں تبدیلی، نئے ستاروں کی تخلیق اور تخریب کے عمل کا مشاہدہ ہے۔ اس دوربین کی مدد سے بہتر مشاہدہ کے لئے تین طرح کی ٹیکنالوجیز استعمال کی گئی ہیں، جن میں سے ایک ہائی فائی ہے۔ اس ذریعے سے ہائی ریزولیوشن سپیکٹرومیٹر کو برائے کار لاتے ہوئے واضح تصاویر حاصل کی جاتی ہیں۔

رپورٹ : عاطف توقیر

ادارت : امجد علی