1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

یورپی بینکوں میں بونس پر پابندی کا فیصلہ

عالمی کساد بازاری کے بعد مالیاتی اداروں میں اصلاحات کے تسلسل میں یورپی یونین نے بینکوں میں خصوصی مالی مراعات یا بونسز کی تقسیم پر اگلے سال سے پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

default

یورپی یونین کے بینکوں میں بونسز کی تقسیم کی پابندی کے فیصلے کو بینکرز نے مثبت خیال نہیں کیا اور ان کے خیال میں اس سے مختلف بینکوں کے درمیان مقابلے کی فضا پر منفی اثرات مرتب ہوں گے اور بونسز کی عدم موجودگی سے کارکنوں میں بےدلی پیدا ہونے کا امکان ہے۔

دوسری جانب یورپی یونین کے فیصلے کے حوالے سے مالیاتی ماہرین کا خیال ہے کہ اس اقدام سے بینکوں کے معاملات کو سدھارنے میں حکومتوں کو کنٹرول حاصل ہو سکے گا۔

یورپی یونین کی حکومتوں اور یورپی پارلیمنٹ کے اراکین کے درمیان اس مناسبت سے کئی ماہ سے مذاکراتی عمل جاری تھا۔ مذاکرات کے بعد یہ طے پا گیا کہ تمام بینکوں میں ہر قسم کی مالی مراعات کی تقسیم پر پابندی عائد ہو گی۔

بینکوں کو کسی بھی ایسے فیصلے پر عمل کرنے سے قبل یورپی یونین کے نافذ کردہ ضوابط کا خیال کرنا ہو گا جن کا اطلاق پہلی جنوری سن 2011 ء سے ہو گا۔ یورپی پارلیمنٹ کی مذاکراتی ٹیم کی سربراہ آرلین میکارتھی کا کہنا ہے کہ نئے قواعد و ضوابط سے بینکاری کے شعبے میں بونس کلچر کا مکمل خاتمہ ہو جائے گا۔ میکارتھی کے مطابق گزشتہ دو سالوں سے بینکوں نے اصلاحات کا موقع گنوا دیا ہے اور اب یونین اس معاملے پر اپنا فیصلہ سامنے لے آئی ہے۔

Deutschland Finanzkrise Börse in Frankfurt Börsenmakler

یورپی یونین کی جانب سے بونسز کی موجودہ شکل کو ختم کردیا گیا ہے

یورپی یونین کی جانب سے بونسز کی موجودہ شکل کو ختم کردیا گیا ہے۔ بینکوں میں مالی مراعات کا سلسلہ جاری رہے گا لیکن اس مد میں رقم خاصی کم کرنے کے علاوہ تقسیم کا عمل قدرے پیچیدہ کردیا گیا ہے۔ نئی بونس پالیسی میں مستقبل کے ممکنہ رسک فیکٹر کو بھی شامل کیا گیا ہے۔ ان قواعد و ضوابط کی حتمی منظوری یورپی پارلیمنٹ اپنے اگلے اجلاس میں دینے والی ہے۔

یورپی بینکوں کی فیڈریشن کے سیکریٹری جنرل گیڈو روائٹ کا کہنا ہے کہ اس فیصلے کے بعد بینکوں میں مسابقت کی فضا ختم ہو جائے گی اور ان کی کارکردگی یقینی طور پرمتاثر ہو گی۔ روائٹ کے مطابق اگر یورپی یونین کے فیصلے کی پذیرائی عالمی سطح پر نہ ہوئی تو یورپ سے باہر قائم مالیاتی مراکز میں واقع بینک فائدے میں رہیں گے۔ روائٹ کا اشارہ نیویارک، سنگاپور اور دوسرے بڑے شہروں میں قائم بین الاقوامی بینکوں کی جانب تھا۔

برطانیہ میں بھی کیمرون حکومت نے بینکوں میں بونسز پر پچاس فیصد کی کٹوتی کو نافذ کردیا ہے۔ امریکہ میں بینکوں کے لئے نئے رہنما اصول جاری ضرور کئے گئے ہیں لیکن میں ان میں بونسز پر کوئی پابندی یا حد مقرر نہیں کی گئی ہے۔

رپورٹ: عابد حسین

ادارت: عاطف بلوچ

DW.COM