1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

یورپی باشندوں کی یورو کے بارے میں سوچ

یورپی مشترکہ کرنسی یورو جب نقد کرنسی کے طور پر استعمال ہونا شروع ہوئی تھی تو اس وقت جو بہت سے تاریخی اور تعریفی جملے سننے میں آئے تھے، ان میں سفری سہولیات میں آسانی، یورپی اتحاد اور مستحکم قیمتوں کا ذکر کیا گیا تھا۔

آج تقریباﹰ ایک عشرہ پورا ہو جانے کے بعد یورو کرنسی کو درپیش بحران کی وجہ سے یورپی صارفین کافی حد تک شک وشبے کا شکار ہو چکے ہیں۔ یورو ملکوں میں رائے عامہ کا جائزہ برلن، میڈرڈ، ایتھنز یا پیرس جیسے شہروں میں سے کہیں بھی لیا جائے، ہر جگہ ایک ہی رائے سننے کو ملتی ہے۔

یورپی یونین کے رکن ملکوں میں سے اکثر میں مشترکہ کرنسی یورو کے اجراء کے بہت سے فائدے بھی تھے جو آج بھی جگہ جگہ نظر آتے ہیں۔ لیکن اب یورو کے حوالے سے یہ سوچ بھی مسلسل زیادہ ہوتی جا رہی ہے کہ ان رکن ملکوں نے اپنی اپنی قومی کرنسیاں چھوڑ کر جب یورو کو اپنایا، تو اس سے عام آدمی کے لیے اشیائے صرف کی قیمتیں زیادہ ہو گئیں۔ اب یورو زون کو درپیش اقتصادی اور سیاسی غیر یقینی کی صورتحال میں اس حوالے سے شبہات کو اور بھی تقویت ملی ہے۔

سن 2002 کے اوائل میں یورپی ملکوں میں روزمرہ کے سکے کے طور پر استعمال کے لیے متعارف کرائی جانے والی یورو کرنسی کو اس کے اجراء کے بعد یورپی اتحاد کے عمل کی معاشرتی زندگی میں نظر آنے والی سب سے بڑی اور قابل فخر مثال قرار دیا جاتا تھا۔ لیکن اب یہ کرنسی یورو زون کے ملکوں میں سے کئی ایک کو درپیش مالیاتی بحران کی وجہ سے اقتصادی کارکردگی میں کمی اور قرضوں کے بحران کی علامت بن چکی ہے۔

ایک حالیہ جائزے کے مطابق یورپی یونین کے آبادی کے لحاظ سے سب سے بڑے ملک جرمنی میں 85 فیصد شہریوں کا کہنا ہے کہ یورو کی وجہ سے انہیں قیمتوں میں اضافے کا سامنا کرنا پڑا۔ یورپی یونین کے سرکاری اعداد و شمار اس عوامی رائے کی تصدیق نہیں کرتے۔ اس لیے کہ ان اعداد و شمار کے مطابق یورو کے استعمال کی گزشتہ ایک دہائی کے دوران یورو زون کے ملکوں میں افراط زر کی شرح اوسطاﹰ قریب دو فیصد سالانہ رہی۔

یہ وہ ہدف ہے جو یورپی مرکزی بینک نے اپنے لیے مقرر کر رکھا ہے۔ یوں سرکاری طور پر یورو کی وجہ سے کوئی غیر معمولی مہنگائی تو دیکھنے میں نہیں آئی لیکن عوامی سوچ اور یورپی باشندوں کے محسوسات اس حقیقت کی تصدیق نہیں کرتے۔ اس وقت یورپی یونین کی رکن ریاستوں میں سے سترہ میں یورو رائج ہے۔

بہت سے نوجوان یورپی باشندوں کا خیال ہے کہ انہیں اپنے اپنے ملکوں میں قومی سطح پر بےروزگاری میں اضافے اور اقتصادی مسائل کا سامنا تو ہے لیکن وہ اس کے لیے یورو کو قصور وار نہیں سمجھتے۔ ان یورپی نوجوانوں میں سے اکثر نے اپنے لڑکپن یا بالغ عمری میں اپنے اپنے ملکوں میں رائج پرانی قومی کرنسیاں دیکھی ہی نہیں۔ ان کے لیے یورو ایک ایسی حقیقت ہے جس نے مالیاتی حوالے سے ڈیڑھ درجن کے قریب ملکوں کو یکجا کر دیا ہے اور جو یورپی اتحاد کے اہم ترین ثمرات میں شمار ہوتا ہے۔

اس کے برعکس درمیانی عمر سے لے کر بزرگ نسل تک کے یورپی شہریوں کے بقول یورو کے فائدے بھی بہت ہیں لیکن اس کی وجہ سے مہنگائی میں اضافہ بھی ہوا اور قرضوں کا بحران بھی دیکھنے میں آیا ہے۔ یہ وہ یورپی شہری ہیں، جو یورو سے پہلے سالہا سال تک اپنے اپنے ملکوں میں وہاں کی قومی کرنسیاں استعمال کرتے رہے ہیں۔ اقتصادی ماہرین کے مطابق ایسے یورپی شہریوں کی نظر میں ان کا صارفین کے طور پر نئی کرنسی کی حیثیت سے یورو کے ساتھ ہنی مون ختم ہو چکا ہے۔

ایسے بہت سے یورپی شہری یہ نہیں جانتے کہ جن یورو ریاستوں کو قرضوں کے شدید بحران کا سامان ہے، وہ یورو ہی کی وجہ سے اب تک دیوالیہ ہونے سے بچی ہوئی ہیں اور ان ریاستوں کے مالیاتی مسائل کی وجہ یورو نہیں بلکہ ان کے بجٹ میں خسارہ اور بے تحاشا ریاستی قرضے ہیں۔

رپورٹ: عصمت جبیں

ادارت: مقبول ملک

DW.COM