یورپی افریقی سربراہی اجلاس، میرکل اور ماکروں شریک ہوں گے | حالات حاضرہ | DW | 28.11.2017
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

یورپی افریقی سربراہی اجلاس، میرکل اور ماکروں شریک ہوں گے

آئیوری کوسٹ میں کل بدھ انتیس نومبر سے یورپی افریقی سربراہی اجلاس شروع ہو رہا ہے۔ اس موقع پر جرمن چانسلر انگیلا میرکل کی کوشش ہو گی کے اقتصادی روابط میں اضافے کی کوشش کی جائے گی۔

جرمن چانسلر انگیلا میرکل کی کوشش ہو گی آبیجان میں ہونے والے اس اجلاس میں تجارتی روابط کو بڑھانے اور  ہجرت کو منظم کرنے جیسے موضوعات پر توجہ مرکوز کی جائے۔ میرکل کو جرمنی میں انہیں دونوں معاملات پر دباؤ کا سامنا ہے۔

یورپی رہنما افریقی مہاجرین کی تعداد میں نمایاں کمی کے خواہاں

اسپین کے ذریعے یورپ پہنچنے والے مہاجرین کی تعداد میں اضافہ

یورپی یونین: رکن ممالک مشترکہ سرحدی کنٹرول پر راضی

’تارکین وطن کو اٹلی سے بھی ملک بدر کیا جائے‘

میرکل گزشتہ ایک ماہ سے زائد کے عرصے سے نئی حکومت کے قیام کی کوششوں میں لگی ہوئی تھیں۔ اس اجلاس میں فرانسیسی صدر ایمانویل ماکروں بھی شرکت کریں گے۔ اس دوران دیگر موضوعات میں تعلیم، نوجوانوں کے امور اور اقتصادی ترقی جیسے شعبوں میں سرمایہ کاری پر بات کی جائے گی، تا کہ پناہ گزینوں اور معاشی مسائل کی وجہ سے ہجرت کرنے والوں کو بحیرہ روم کے پر خطر سفر سے روکا جا سکے۔

Burkina Faso - Emmanuel Macron mit Roch Marc Chiristian Kabore (Reuters/P. Wojazer)

فرانسیسی صدر آبیجان سمٹ میں شرکت کے لیے افریقی ملک برکینا فاسو پہنچ چکے ہیں

یہ دورہ جرمن چانسلر کے لیے اس وجہ سے بھی اہم ہے کہ 2015ء میں دس لاکھ مہاجرین کو ملک میں داخل ہونے کی اجازت دینے کے فیصلے کے باعث انہیں تنقید کا سامنا ہے۔

افریقی ممالک کے ساتھ جرمنی کا تجارتی توازن تقریباً چودہ فیصد تک پہنچ چکا ہے۔ اس تناظر میں جرمن افریقی بزنس ایسوسی ایشن کے ڈائریکٹر کرسٹوف کاننگیسر نے کہا، ’’ مستقبل میں بھی اس منڈی میں جرمن صنعت کی نمائندگی پوری طرح دکھائی دینے کے آثار کم ہیں‘‘۔

DW.COM