1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

’یورو‘ کی سالگرہ، ’صدا خوش رہو‘

یورو کرنسی اتوار یکم جنوری 2017 ء کو اپنی پندرہویں سالگرہ منا رہی ہے۔ ابتدا میں ناپسند کی جانے والی اس کرنسی کے بارے میں یورو زون میں آباد عوام کی اکثریت کی رائے اب تبدیل ہو چکی ہے۔

تقریباً 340 ملین افراد روزانہ یورو کرنسی استعمال کرتے ہیں۔ یورو کو یکم جنوری 1999ء کو ابتدائی طور پر متعارف کرایا گیا تھا اور ابتداء میں یہ صرف ایک ورچوئیل کرنسی تھی، جسے اکاؤنٹنگ اور بینکوں کے ذریعے کیے جانے والے لین دین میں استعمال کیا جاتا تھا۔

بعد ازاں یکم جنوری 2002ء کو یورو کے سکے اور نوٹ جاری کر دیے گئے۔ یورو کرنسی کی مثال ایک ایسے بچے کی ہے، جو کم سنی سے بلوغت میں قدم رکھ رہا ہے اور اسے مختلف مسائل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ تاہم وہ تمام بحرانوں کا مقابلہ کرتے ہوئے حالات سے محظوظ ہوتے ہوئے آگے بڑھ رہا ہے۔ یورو انیس ممالک کی مشترکہ کرنسی ہے اور ان ممالک کی موجودہ نسل میں بہت مقبول ہے کیونکہ انہیں اپنے ممالک کی پرانی کرنسی دیکھی ہی نہیں۔

ابتداء میں یورو کو کچھ زیادہ پسند نہیں کیا گیا تھا کیونکہ عوام کی ایک بڑی تعداد کا خیال تھا کہ کرنسی میں تبدیلی کی وجہ سے مہنگائی میں اضافہ ہوا ہے۔ جرمنی میں یورو کو ’ٹیورو‘ یعنی’مہنگے‘ کا نام دیا گیا تھا۔ تاہم گزرتے وقت کے ساتھ عوام کے رویے میں بھی تبدیلی آئی۔

یورپی کمیشن کے ایک جائزے کے مطابق یورو زون کے 56 فیصد افراد ’یورو‘ کو ایک بہتر فیصلہ قرار دیتے ہیں۔ تاہم اس جائزے میں شامل پندرہ سے چوبیس سال کے درمیانی عمر کے 68 فیصد لوگ اس کرنسی کے حق میں ہیں۔ بروگل نامی ایک تھنک ٹینک کی ماریا دیمرتز کے بقول،’’ایک عام شہری یورو کو سیاسی استحکام اور کم افراط زر کے ایک ذریعے کے طور پر دیکھتا ہے۔‘‘

یورو کرنسی اپنی اس سفر کے دوران دو بڑے بحرانوں کا مقابلہ کر چکی ہے۔ 2008ء کے عالمی مالیاتی بحران کے بعد یونان سے شدید مشکلات کا شکار ہوا اور یورو کرنسی بھی مسائل میں گِھر گئی۔ بعد ازاں ان مسائل نے پرتگال اور آئرلینڈ کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ ایک وقت ایسا بھی آیا جب اس کرنسی زون کے ٹوٹنے کا خطرہ بہت زیادہ بڑھ گیا تھا تاہم یورپی یونین کی جانب سے مختلف امدادی منصوبوں کی وجہ سے اس کا شیرازہ بکھرنے سے بچ گیا۔

یورو زون کے دیگر ممالک تو دوبارہ اپنے پیروں پر کھڑے ہو گئے تاہم یونان کے مسائل وقت کے ساتھ بڑھتے رہے اور 2015ء میں ایک مرتبہ پھر خدشہ پیدا ہو گیا کہ جیسے یونان یورو زون سے نکل جائے گا۔ اس مرتبہ پھر اس ملک کے لیے امداد پیکجز منظور کیے گئے اور اس کی معاشی صورتحال کو مستحکم کیا گیا۔

یورو کو درپیش خطرات ابھی ٹلے نہیں ہیں۔ متعدد یورپی ممالک میں ایسی عوامیت پسند تنظیمیں مقبولیت پا رہی ہیں، جو ’یورو‘ کے حوالے سے خدشات رکھتی ہیں۔ اگر یہ تنظیمں انتخابات جیتنے میں کامیاب ہو جاتی ہیں تو شاید یورو کو ایک تیسرے بڑے بحران کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔