1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

یورو کرنسی کے استعمال کی دسویں سالگرہ اتوار کو

یورپی یونین میں ہر روز سینکڑوں ملین شہری یورو کرنسی نوٹ اور سکے استعمال کرتے ہیں۔ یکم جنوری اتوار کے روز یورو کے استعمال کا ٹھیک ایک عشرہ پورا ہو جائے گا۔

لیکن سن 2012 کے پہلے یورو کی یہ دسویں سالگرہ شاید اتنے جوش و جذبے سے نہ منائی جائے جتنی کہ یورو زون کا مالی بحران پیدا نہ ہونے کی صورت میں منائی جاتی۔ یورو ملکوں، یورپی یونین اور پورے یورپ کے لیے ایک مشترکہ کرنسی کا اجراء ایک بہت ہی تاریخی اقدام تھا۔ لیکن یورو زون کو گزشتہ قریب دو سال سے شدید مالی بحران کا سامنا ہے۔

اس بحران کی وجہ چند رکن ملکوں میں سالانہ بجٹ میں بہت زیادہ خسارہ اور بے تحاشا ریاستی قرضے بنے۔ یورپی سیاستدان ابھی تک یورو زون کو اس بحران سے نکالنے کی کوششوں میں ہیں۔

10. Jahrestag Einführung des Euro als Bargeld

یورپی یونین کے شہریوں میں یورو کے بارے میں پایا جانے والا جوش و خروش قدرے کم ہے

سال 2012 کے پہلے روز یورو کی دسویں سالگرہ کے حوالے سے برسلز میں یورپی کمیشن کے ایک ترجمان نے صحافیوں کو بتایا، ’ہم کسی خاص تقریب کی کوئی تیاری نہیں کررہے‘۔ یورپی کمیشن کے اس ترجمان کے بقول آج یورپی یونین کے شہریوں میں یورو کے بارے میں پایا جانے والا جوش و خروش قدرے کم ہے۔ ''اس کی وجہ یورو زون کا مالی بحران ہے۔ ٹھیک دس سال قبل عوامی جذبات بالکل مختلف تھے۔‘‘

31 دسمبر 2001ء اور یکم جنوری 2002ء کی درمیانی رات یورپ کے کروڑوں شہریوں نے اس براعظم کی پہلی مشترکہ کرنسی کا بہت زیادہ خوشی، آتشبازی اور ہزاروں خصوصی تقریبات کے ساتھ استقبال کیا تھا۔ یہ خوشی یورپی یونین کے مغرب سے لے کر بحیرہء روم کے علاقے اور شمالی یورپ سے لے کر جنوبی یورپ تک پھیلے ہوئے کئی ملکوں میں دیکھی گئی تھی۔

تب ان ملکوں میں عام شہریوں نے یورو کرنسی نوٹ اور مختلف مالیت کے سکے اپنے ہاتھوں میں لیے تو یورپ میں ہر کسی کے ایک ہو جانے کا بڑا مختلف احساس دیکھنے میں آیا تھا۔ تب اس دور کے فرانسیسی وزیر اعظم لیونیل یوسپاں نے پیش گوئی کی تھی، ’یورو ہماری کرنسی ہے اور یہ یورپی اتحاد اور طاقت کی علامت بنے گی۔‘

سن 2002 میں جب یورو کے نقد رقم کے طور پر استعمال کا آغاز ہوا تھا تو اس مالیاتی اتحاد میں 12 ملک شامل تھے۔ ان میں یورپی کی بڑی اقتصادی طاقتیں جرمنی اور فرانس بھی تھے۔ اس کے بعد مختلف اوقات میں اس مالیاتی اتحاد میں مزید پانچ ملک شامل ہو گئے۔ اس وقت یورو کے رکن ملکوں کی تعداد 17 ہے۔

یورو کے بارے میں دلچسپ بات یہ ہے کہ چھ یورپی ملک ایسے بھی ہیں، جو یورپی یونین یا یورو زون کے رکن تو نہیں لیکن انہیں اپنے ہاں یورو کے استعمال کی اجازت ہے۔ ان ملکوں میں اینڈورا، کوسووو، موناکو، مونٹی نیگرو، سان مارینو اور ویٹیکن سٹی شامل ہیں۔

یورو کو درپیش اس گروپ کے رکن چند ملکوں کے مالی بحران اپنی جگہ لیکن یہ بات ہر کوئی تسلیم کرتا ہے کہ یورو یورپی اتحاد کی سب سے بڑی علامت ہے جس سے یورو زون کا ہر شہری ہر روز فائدہ اٹھاتا ہے۔ ماہرین کو امید ہے کہ یورو کے بحران پر یورپی ملک قابو پا لیں گے۔

یورو کی اصل طاقت اور اہمیت اس بات میں بھی ہے کہ اب یہ مشترکہ یورپی کرنسی امریکی ڈالر کے بعد دنیا کی دوسری اہم ترین کرنسی بن چکی ہے۔ اس وقت پوری دنیا میں غیر ملکی زر مبادلہ کے ذخائر کے لیے ڈالر کے بعد یورو سب سے زیادہ استعمال ہوتا ہے۔ عالمی سطح پر مختلف ملکوں کے پاس فارن ایکسچینج کے جتنے بھی ذخائر ہیں، ان میں سے 26 فیصد یورو میں ہیں۔

رپورٹ: عصمت جبیں

ادارت: مقبول ملک

DW.COM