1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

یورو پول کے 15 سال

یورپول کا نام سن کر یوں محسوس ہوتا ہے جیسے امریکہ کی FBI کی طرح، یہ بھی یورپ کی کوئی سپر پولیس فورس ہو گی لیکن ایسا نہیں ہے۔

default

یورو پول کا نشان

یورپول یورپی یونین کی 27 رکن ملکوں کی پولیس کا ایک طرح سے خبروں اورمعلومات کےذخیرہ اورتبادلے کا مرکز ہے۔ ہالینڈ کے شہردی ہیگ میں قائم اس ادارے کے جرمن سربراہ ماکس پیٹرراٹسل نے بتایا:’’مجھے یوروپول کا سب سے بڑا فائدہ یہ نظرآتا ہے کہ ہم نےمتعدد ملکوں کو ایک مرکز تلے جمع کر دیا ہے۔ اب ہمیں معلومات اکھٹی کرنے کے لئے الگ الگ ملکوں سے رابطہ قائم کرنے کی ضرورت نہیں رہی بلکہ ایک ہی آفس میں مختلف ملکوں کے نمائندوں سے بات چیت کرکے مطلوبہ مقصد فوراً حاصل کیا جا سکتا ہے۔‘‘

Max-Peter Ratzel Europol

یورو پول کےسربراہ ماکس پیٹرراٹسل

یوروپول کا ادارہ تیزی سے وسعت اختیار کرتا جا رہا ہے۔ 1994 میں جب اس کا قیام عمل میں لایا گیا تھا تواس وقت عملے کی تعداد چند پولیس حکام، کسٹم کے چند اہلکاروں اور چند سرحدی محافظین پرمشتمل تھی۔ آج پندرہ سال بعد عملے کی تعداد 600 سے تجاوز کرچکی ہے۔

نہ صرف عملہ بلکہ اس ادارے کے فرائض کا دائرہ کار بھی بڑھ چکا ہے۔ شروع میں اس کا کام منشیات کے خلاف جنگ اور کالے دھن کو سفید دھن میں تبدیل کرنے والوں کا تعاقب کرنا تھا۔ دریں اثنا مختلف طرح کے منظم جرائم کی سرکوبی اس کے فرآئض میں شامل ہے۔ ان دنوں یورپول بچوں کی جنسی فلمیں بنانے والے نیٹ ورک اور دہشت گردی کے ٹھکانوں کا پتہ چلانے میں سرگرم عمل ہے۔

Das Europol Gebäude in Den Haag

ہالینڈ کے شہر دی ہیگ میں واقع یورو پول کا مرکزی دفتر

اس بارے میں راٹسل نے بتایا:’’یورپی یونین کی صرف کسی ایک ریاست پرہی ساری توجہ مرکوز کرنا غلط ہے۔ کیوں کہ ہم نہیں جانتے کہ کس ملک میں منصوبہ بندی ہورہی ہوتی ہے۔ کہاں سے مالی معاونت ہورہی ہوتی ہے۔ کہاں سے ہمدردیاں حاصل کی جا رہی ہوتی ہیں۔ یہ ساری معلومات ہم اکٹھی کرتے ہیں تا کہ شدید خطرات کی صورت میں پیشگی بچاؤ کی تدابیر اختیارکی جا سکیں۔‘‘

دوسری جانب یورپ کی تحفظ ڈیٹا تنظیموں کو یوروپول سے شکایت ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہاں جمع ہونے والی شخصی معلومات ایسے اداروں یا شخصیات تک بھی پہنچ سکتی ہیں جنہیں یہ معلومات حاصل کرنے کا قانوناً حق حاصل نہیں ہوتا۔