1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

فن و ثقافت

یورو ویژن کا تاج، آذربائیجان کے سر

آذربائیجان سے تعلق رکھنے والے گلوکاروں ایلڈر گاسیموف اور نِگار جمال نے یوروویژن مقابلے میں سب سے زیادہ ووٹ حاصل کر کے اپنے ملک کو فتح دلوا دی ہے۔ اس مقابلے کو تقریباﹰ 100 ملین افراد نے ٹی کے ذریعے دیکھا۔

default

آذربائیجان کے نوجوان گلوکاروں 30 سالہ نگار جمال اور 21 سالہ ایلڈر گاسیموف کا گیت ’’رننگ سکیرڈ‘‘یعنی ’’چلتا خوف‘‘221 پوائنٹس کے ساتھ اس مقابلے میں نمبر ایک گیت قرار پایا۔ یہ دونوں گلوکار ایل۔نِکی کے نام سے جوڑی کی صورت میں گاتے ہیں۔

ہفتے کے روز یورو ویژن مقابلے کا اہتمام ڈوسلڈورف شہر کے فٹ بال کے ایک میدان میں کیا گیا تھا۔ گزشتہ برس نوجوان جرمن گلوکارہ لینا مائر نے اس مقابلے میں پہلی پوزیشن حاصل کی تھی۔ یہ مقابلے ہر برس یورپ کے عمومی اسی ملک میں منعقد کئے جاتے ہیں، جس کے حصے میں اس مقابلے کی فتح آتی ہے۔ اگلی مرتبہ اب یہ مقابلہ آذربائیجان کے شہر باکو میں منعقد ہو گا۔

30 سالہ نگار جمال دو بچوں کی والدہ ہیں اور لندن میں مقیم ہیں۔ دوسری نمبر پر اٹلی رہا، جسے 221 ووٹ ملے جبکہ تیسرا نمبر سویڈن کا رہا۔ یورو ویژن کے اس 56 ویں ایڈیشن میں آئرلینڈ، برطانیہ اور فرانس کو فیورٹ قرار دیا جا رہا تھا تاہم ان میں سے کسی بھی ملک کا کوئی گلوکار کوئی خاطر خواہ کامیابی حاصل نہ کر پایا۔

Deutschland Musik ESC 2011 Eurovision Song Contest Finale Aserbaidschan Ell/Nikki gewonnen

جیت کا جشن مناتے آذربائیجان کے گلوکار

ایلڈر گاسیموف اور نگار جمال کی فتح کا اعلان ہوا، تو 36 ہزار تماشائیوں اور ٹیلی ویژن کے ذریعے تقریباﹰ سو ملین ناظرین کی موجودگی میں گلوکاری کے اس سب سے بڑے عالمی مقابلے میں سٹیج پر موجود ایلڈرگاسیموف کا پیسنے سے اٹا چہرہ حیرت اور خوشی کے ملے جلے تاثرات سے دمکنے لگا۔

’’او میرے خدا، ہم جیت گئے، ہم جیت گئے۔ اس وقت میں دنیا کا سب سے خوش شخص ہوں۔‘‘

جیت کے بعد نگار جمال کا کہنا تھا، ’’چند ماہ قبل میں ایک عام سی گھریلو خاتون تھی، جس کے دو بچے تھے اور جس کی سب سے بڑی خواہش تھی کہ وہ اپنے ملک کی نمائندگی کر سکے۔ میرا خواب پورا ہو گیا۔ میں یورو ویژن کی فاتح ہوں۔‘‘

رپورٹ : عاطف توقیر

ادارت : امتیاز احمد

DW.COM

ویب لنکس