1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

’یورو زون کے مالیاتی استحکام کے لیے ایک ٹریلین یورو کا فنڈ‘

یورو کرنسی استعمال کرنے والے ممالک یورو زون کی سربراہی سمٹ میں مالیاتی استحکام کے لیے تشکیل دیے گئے ریسکیو فنڈ میں اضافے کا اصولی فیصلہ کر لیا گیا ہے۔

default

ماہرین کے مطابق European Financial Stability Fund میں وسعت کا یہ اصولی فیصلہ دیر آید درست آید والا معاملہ ہے۔ اس فیصلے کی حتمی تفصیلات تو عام نہیں کی گئیں تاہم مالیاتی منڈیوں پر اس کے مثبت اثرات نظر آنا شروع ہوگئے ہیں۔

خبر رساں ادارے روئٹرز نے یورپی ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ 440 ارب یورو کے اس فنڈ کو ایک ٹریلین یورو تک لے جانے کی بات ہوئی ہے۔ ذرائع کے مطابق بحران زدہ یونان، آئرلینڈ اور پرتگال کو فنڈز کی فراہمی اور خطے کے بینکوں کو سرمائے کی فراہمی کے بعد بھی فنڈ میں 250 تا 275 ارب یورو دستیاب رہیں گے۔

سربراہی سمٹ میں اس نکتے پر اتفاق ہوا کہ بحران زدہ یونان کے حکومتی بانڈز کے حامل نجی مالیاتی ادارے شرح سود میں 50 فیصد تک کی کمی کریں۔ اس سے قبل اس شرح میں محض 20 فیصد کی کمی زیر غور تھی۔

واشنگٹن میں مقیم بین الاقوامی مالیاتی امور کے ماہر روی بھردواج کے بقول اگرچہ یورپی رہنماؤں نے سمٹ کے فیصلوں کی مکمل تفصیلات عام نہیں کیں تاہم ان کی سمت درست معلوم ہوتی ہے اور یہ یورپی یونین میں اتحاد کی علامت ہے۔ ان کے بقول بہت سے حلقوں کو امید تھی کہ یونان کے قرض بحران کو سلجھانے اور دیگر مسائل کے حل کی کچھ تفصیلات عام کردی جائیں گی۔

EU-Gipfel Angela Merkel Nicolas Sarkozy FLASH-GALERIE

یورو زون کے دو اہم سربراہان مملکت، فرانسیسی صدر نکولا سارکوزی اور جرمن چانسلر انگیلا میرکل

نیو یارک میں مقیم مالیاتی امور کے ایک اور ماہر یورگین اوڈینیوس کا کہنا ہے کہ وہ بھی پیشرفت کو مثبت سمت میں گامزن دیکھتے ہیں مگر فی الحال کوئی حتمی بات سامنے نہیں آئی، ’’ اب بھی خدشہ ہے کہ رضاکارانہ طور پر قرضے لوٹانے کے نظام میں اصلاحات ممکن نہ ہوسکیں اور یونان دیوالیہ ہوجائے۔‘‘

سربراہی سمٹ کی ایک دستاویز کے حوالے سے خبر رساں ادارے روئٹرز نے دعویٰ کیا ہے کہ یورپی رہنما بین الاقوامی مالیاتی فنڈ، چین اور دیگر ذرائع سے بھی سرمائے کے حصول پر غور کر رہے ہیں۔ روئٹرز کے مطابق ریسکیو فنڈز کے ذریعے یورو زون کے حکومتی بانڈز پر عارضی ضمانتیں جاری کرنے پر بھی غور کیا گیا۔

رپورٹ: شادی خان سیف

ادارت: امتیاز احمد

DW.COM