1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

یورو زون کی طرف سے مدد ’یونان کے لیے آخری موقع‘

مالی بحران کے شکار یورپی ملک یونان کے مرکزی بینک نے خبردار کیا ہے کہ یورو زون میں شامل ریاستوں نے گزشتہ مہینے ایتھنز کے لیے جس بیل آؤٹ پیکج کی منظوری دی، وہ یونان کی اقتصادی تعمیر نو کا آخری موقع ثابت ہو سکتا ہے۔

default

ایتھنز میں یونان کی قومی پارلیمان، فائل فوٹو

اس پیکج کے تحت یونان اپنے ذمے ریاستی قرضوں کے ممکنہ طور پر ایک تہائی حصے سے چھٹکارا حاصل کرنے میں کامیاب ہو سکتا ہے۔ یونانی مرکزی بینک کے مطابق 26 اکتوبر کو یورو ریاستوں پر مشتمل یورو گروپ نے جس بیل آؤٹ پیکج کی منظوری دی، وہ ہو سکتا ہے کہ ایتھنز کے لیے دیوالیہ پن سے بچنے کا آخری موقع ہو۔

یونان میں پاپاندریو حکومت کے بعد اب پاپادیموس حکومت کی طرف سے جن مالی بچتی پروگراموں پر عمل کیا جا رہا ہے، ان کی عوامی مخالفت ابھی تک جاری ہے۔ اس پس منظر میں سینٹرل بینک نے اب یہ کہا ہے کہ ملکی حکومت اور عوام کو موجودہ بحران سے نکلنے کے لیے طے شدہ مالیاتی اہداف کے حصول میں ہر طرح کی تاخیر سے بچنا ہو گا۔

Protest gegen Sparmaßnahmen in Griechenland

یونانی شہری ابھی تک مالی بچت کے حکومتی پروگراموں کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں

اس بینک کی طرف سے اس کی مالیاتی پالیسی سے متعلق ملکی پارلیمان کو پیش کی گئی ایک عبوری رپورٹ کے مطابق یونان کے ذمے قرضوں کی مجموعی مالیت 350 ارب یورو سے بھی زائد ہے۔ یونان کے لیے یورپی یونین اور آئی ایم ایف نے ایک مالیاتی پیکج گزشتہ برس منظور کیا تھا۔ پھر اسی سال اکتوبر میں یورو زون نے بھی ایتھنز کے لیے 130 ارب یورو کے ایک نئے بیل آؤٹ پروگرام کی منظوری دے دی تھی۔

ابھی حال ہی میں اقتدار میں آنے والی موجودہ یونانی حکومت اپنے طور پر نہ صرف سرکاری اخراجات میں کمی کر رہی ہے بلکہ اس نے اضافی سرکاری آمدنی کو یقینی بنانے کے لیے کئی اصلاحات بھی متعارف کرائی ہیں۔ ان میں وہ متنازعہ لیکن خصوصی پراپرٹی ٹیکس بھی شامل ہے، جس کی وجہ سے ریاست کی آمدنی میں سات فیصد تک کا اضافہ ہو سکے گا۔

ان اقدامات کے باوجود یونانی مرکزی بینک کا کہنا ہے کہ ملک میں نئی مالیاتی پالیسیوں پر عمل درآمد کی رفتار اتنی سست اور غیر تسلی بخش ہے کہ ابھی تک ایتھنز حکومت کی کوششوں پر ملکی عوام اور بین الاقوامی مالیاتی منڈیوں کا اعتماد بحال نہیں ہو سکا۔

رپورٹ: مقبول ملک

ادارت: عدنان اسحاق

DW.COM

ویب لنکس