1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

یورو زون کا بحران، بیرلسکونی پر بھی دباؤ بڑھ گیا

یورپی رہنماؤں نے اطالوی وزیر اعظم بیرلسکونی پر دباؤ بڑھا دیا ہے کہ وہ اپنے بڑھتے ہوئے ریاستی قرض پر قابو پائیں، جس کے بعد بیرلسکونی نے کابینہ کا ہنگامی اجلاس طلب کر لیا ہے۔

default

یورو کرنسی استعمال کرنے والے ممالک اس وقت یونان، پرتگال اور آئرلینڈ کے خستہ حال مالیاتی شعبے کے سبب مشکلات میں گِھرے ہوئے ہیں۔ اسی ضمن میں اٹلی کے مالیاتی اعداد و شمار بھی باعث تشویش ہیں۔ وزیر اعظم بیرلسکونی کا دعویٰ ہے کہ ان کا ملک بالکل بھی مالیاتی خطرے سے دوچار نہیں۔

برسلز میں یورپی رہنماوں کے اجلاس کے بعد ان کا کہنا تھا کہ کابینہ اجلاس میں مالیاتی اصلاحات بالخصوص پینشن نظام سے متعلق امور پر غور کیا جائے گا، ’میں اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے صورتحال کا از سر نو جائزہ لوں گا اور اس امکان پر غور کروں گا کہ آیا ان اقدامات کو عملی جامہ پہنایا جاسکتا ہے، جنہیں میں نافذ نہیں کروا سکا ہوں‘۔

برسلز میں یورپی رہنماوں کے اجلاس سے قبل اطالوی وزیر اعظم نے یورپی یونین کے صدر ہیرمان فان رومپوئے، جرمن چانسلر انگیلا میرکل اور فرانسیسی صدر نکولا سارکوزی سے علیٰحدہ علیٰحدہ ملاقاتیں کیں۔ فان رومپوئے نے اٹلی کے معاملے سے متعلق کہا، ’ہمیں سرمایہ کاروں اور دیگر ریاستوں کا اعتماد بحال کرنا ہے، واضح طور پر ہم اطالوی قیادت سے بڑی کوشش کا مطالبہ کر رہے ہیں اور میرا خیال ہے کہ وہ بھی اس کے لیے تیار ہے‘۔

یورو زون کے قرض بحران سے متعلق بدھ کو اہم سربراہی اجلاس شیڈیول ہے۔ یونین کے صدر کے بقول تمام رکن ممالک بیرلسکونی کے ساتھ مل کر اس بات کو ممکن بنائیں گے کہ روم حکومت اپنے وعدوں پر عملدرآمد کرے۔

اطالوی حکومت کا ریاستی بجٹ خسارہ قریب 2 ٹریلین یورو تک پہنچ چکا ہے، جو کہ اس کی مجموعی قومی پیداوار کے 120 فیصد کے برابر ہے۔ یورپی یونین میں اقتصادی استحکام کے لیے بجٹ خسارے کی زیادہ سے زیادہ حد کو مجموعی قومی پیداوار کے 60 فیصد تک رکھنے کو ناگزیر سمجھا جاتا ہے۔ وزیر اعظم بیرلسکونی نے جولائی سے بجٹ خسارے پر قابو پانے کے نئے اقدامات کا اعلان کیا تھا مگر اگست میں یورپی مرکزی بینک نے روم حکومت کو نئے قرض کے حصول میں معاونت فراہم کی تھی، جو اقتصادی اصلاحات کے برعکس اقدام تھا۔

رپورٹ: شادی خان سیف

ادارت:عاطف بلوچ

DW.COM